.

نہر سویز میں پھنسے جہاز کو کھینچنے کی کوششیں جاری، بائیڈن کی مدد کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نہر سویز میں بدھ کے روز سے پھنسے ہوئے دیو ہیکل مال بردار بحری جہاز کو کھینچنے کی کوششوں کا آج ہفتے کے روز پھر سے آغاز ہوا۔ ادھر امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔ یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ امریکی بحریہ نے جہاز کو رواں دواں کرنے کے واسطے ایک ٹیم مصر بھیجی ہے۔

نہر سویز کی اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ جہاز کو کھینچنے کی مشق کئی معاون عوامل کی متقاضی ہے۔ ان میں ہوا کا رخ اور مد و جزر اہم ترین ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ فنی کارروائی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک نہر سویز کی صورت حال کو حل کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔ بائیڈن کے مطابق امریکا کے پاس ایسا ساز و سامان اور صلاحیت ہے جو دنیا کے بیشتر ممالک کے پاس نہیں۔ دریں اثنا امریکی چینل فوكس نيوز کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے ذمے داران نے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان میں متعلقہ شعبے کے ماہر انجینئر بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جہاز کو نکالنے کے لیے مصری ذمے داران کی مدد کرنا ہے۔

پینٹاگان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم نے مصر کو مدد کی پیش کش کی ہے"۔

نہر سویز اتھارٹی کے سربراہ کے مطابق متعلقہ حکام نے جہاز کھینچنے کے مشن پر عمل درامد کے لیے 9 عدد locomotives کی مدد حاصل کی ہے۔ یہ پیش رفت جہاز کے اگلے حصے کی جانب کھدائی کا کام مکمل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

بدھ کے روز سے پھنسے ہوئے اس کنٹینر جہاز نے یورپ اور ایشیا کے درمیان اہم تجارتی بحری گزر گاہ کو مسدود کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے مشیر برائے نہر سویز مہاب ممیش نے جمعرات کے روز اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ نہر میں بحری جہاز رانی آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

نہر سوئز اتھارٹی نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز "ایور گرین" کی لمبائی 400 میٹر ہے۔ اس نے نہر کو مکمل طور پر مسدود کر دیا ہے۔

اس سے قبل ہالینڈ کی کمپنی "اسمتھ سیلویج" کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے جہاز کو پھر سے رواں دواں کرنے کے عمل میں کئی روز یہاں تک کہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ جہاز کے آپریٹنگ گروپ "ایور گرین میرین کورپ" نے پھنسے ہوئے جہاز کو دوبارہ گامزن کرنے میں مدد کی ذمے داری مذکورہ ڈچ کمپنی کو سونپی ہے۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ویب سائٹ پر جاری تعاملی نقشے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نہر سوئز میں درجنوں بحری جہاز ایک جانب ٹھہر کر راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔

دنیا میں بحری جہازوں کی مالک سب سے بڑی کمپنی "میرسک" کی خاتون ترجمان کے مطابق کمپنی تمام ممکنہ متبادلوں پر غور کر رہی ہے۔ میرسک کمپنی کے نو کنٹینر جہاز اور دو شریک جہاز نہر سوئز کے کھلنے کے انتظار میں لنگر انداز ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے اس واقعے نے تیل اور دیگر تجاری سامان کی حوالگی کی کارروائیاں سست کر دی ہیں۔ اس خبر سے بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

رائسٹائڈ بیورو کے بیونر ٹون ہوگن کا کہنا ہے کہ اگر نہر سوئز میں یہ تعطل کئی روز تک جاری رہا تو تیل کی قیمتوں پر اس کا اثر بڑا اور زیادہ عرصے کے لیے ہو سکتا ہے۔

نہر سوئز میں پھنسے ہوئے بحری جہاز "ایور گرین" کی لمبائی 400 میٹر اور چوڑائی 59 میٹر ہے۔ اس میں لدے ہوئے مال کا مجموعی وزن 2.24 لاکھ ٹن ہے۔ یہ چین سے روٹرڈم کی جانب جا رہا تھا۔ اس دوران میں وہ مصر کے شہر سوئز کے نزدیک پھنس گیا۔

ماہرین کا غالب گمان ہے کہ اس حادثے کے پیچھے تند و تیز ہوا کا ہاتھ ہے۔ نہر سوئز اتھارٹی کے مطابق حادثے کی وجوہات میں خراب موسم (ریت کی آندھی) کے نتیجے میں حد نظر کا ختم ہو جانا بھی شامل ہے۔

بحر احمر کو بحر روم سے ملانے والی نہر سوئز 1869ء میں تعمیر ہوئی۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 2015ء میں نہر کے لیے ایک ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد بحری جہازوں کے لیے انتظار کا عرصہ کم کرنا اور 2023ء تک نہر استعمال کرنے والے جہازوں کی تعداد کو دگنا کرنا ہے۔

عالمی بحری تجارتی نقل و حرکت کا 10 فی صد حصہ نہر سوئز سے گزرتا ہے۔ یہ ایشیا کو یورپ سے ملانے والا اہم ترین بحری راستہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 193 کلو میٹر طویل اس نہر سے روزانہ تقریبا 10 ارب ڈالر مالیت کا سامان گزرتا ہے۔ معروف بحری جریدے ’لائیڈز لسٹ‘ کا کہنا ہے کہ اوسطاً دن میں 50 سے زائد جہاز نہر سوئز کو عبور کرتے ہیں جن میں 1.2 ارب ٹن کارگو لدا ہوتا ہے۔