.

سعودی سفیربرائے یمن کی اقوام متحدہ اورامریکا کے ایلچیوں سےامن منصوبہ پربات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعیّن سعودی سفیرمحمد بن سعید ال جابر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس اور امریکی ایلچی برائے یمن ٹموتھی لینڈرکنگ سے اتوار کے روز ملاقات کی ہے اور ان سے مملکت کے جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے پیش کردہ نئے امن اقدام پر بات چیت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انھوں نے ملاقات میں یمن میں جاری بحران کے جامع سیاسی حل کے لیے مشترکہ کوششوں پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ سوموار کو ایک نیوزکانفرنس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا۔اس کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن بھر میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے اپنے امن اقدام میں یمن بھر میں جنگ بندی کے علاوہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے ،الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے ایندھن اور دوسری اشیاء کو یمن میں درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ تمام فریقوں کی شمولیت سے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے جامع سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

لیکن ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے یمن میں قیام امن کے لیے سعودی عرب کے اس نئے امن اقدام کو فوری طور پر مسترد کردیا تھا۔قبل ازیں وہ امریکا کی ایسی امن تجویز کو بھی مسترد کرچکے ہیں۔