.

سعودی عرب:قومی مصنوعات اورخدمات کے فروغ کے لیے’’سعودی ساختہ‘‘اقدام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے قومی مصنوعات اور خدمات کی معاونت کے لیے ’’سعودی ساختہ‘‘ اقدام کا آغاز کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیرنگرانی وزیرصنعت اور معدنی وسائل بندر بن ابراہیم الخریفی نے اتوار کوایک ورچوئل تقریب میں ’’سعودی ساختہ‘‘ اقدام کا اعلان کیا ہے۔

بندر الخریفی نے، جوسعودی برآمدات ترقی اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں،کہا کہ ’’اس اقدام کا مقصد قومی مصنوعات سے وفاداری کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’مصنوعہ سعودی ایک اہم اقدام ہے کیونکہ اس سے اس فرسودہ نظریے کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی کہ سعودی عرب صرف تیل ہی برآمد کرتا ہے جبکہ اس اقدام سے مملکت کا ایک نیا تشخص اجاگرہوگا اور وہ یہ کہ وہ بہت سی مختلف مصنوعات پیدا کرنے کی قومی مارکیٹ کا بھی حامل ہے۔‘‘

وزیر صنعت نے مزید کہا کہ ’’ایک صنعتی شناخت کی تخلیق ہمارا قومی منصوبہ ہے۔اس کے تحت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں متعدد سرکاری اور نجی ادارے مشترکہ طورپر مملکت کو صنعتی طاقت بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’قومی مصنوعات پراعتماد ایک فوری ضرورت بن چکا ہے،اس ضمن میں مقامی اورغیرملکی سرمایہ کاری کو ترغیب دی جارہی ہے، ملازمتوں کے نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں،برآمدات میں اضافے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے،ادائیوں کے توازن میں بہتری آرہی ہے اور جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔‘‘

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ’’سعودی ساختہ‘‘ اقدام مملکت کے ویژن2030ء کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔مقامی مصنوعات اورخدمات کی طرف قوتِ خرید کا رُخ موڑا جاسکے گا۔اس سے جی ڈی پی میں نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر65 فی صد ہوجائے گا اور 2030ء تک سعودی عرب کی غیرتیل برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ قریباً 50 فی صد ہوجائے گا۔