.

یواے ای کی فرم چینی سائنوفارم سے ڈیل کے بعد کووِڈ-19 کی ویکسین تیارکرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک فرم چین کی دواسازکمپنی سائنوفارم سے ڈیل کے بعد اپریل میں کووِڈ-19 کی ویکسین کی تجارتی پیمانے پیداوار شروع کردے گی۔

یو اے ای میں شامل امارت راس الخیمہ میں قائم گلف فارماسیوٹیکل انڈسٹریز پی ایس سی نے اتوار کو ابوظبی سے تعلق رکھنے والی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ گروپ 42 (جی 42) کے ساتھ ویکسین کی تیاری کے لیے سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔گروپ 42 ہی یو اے ای اور خطے بھرمیں سائنوفارم کی ویکسین کی تیسرے مرحلے میں کلینکی جانچ کا ذمے دار ہے۔

سائنوفارم کی ویکسین کی تیاری خطۂ خلیج میں چین کی سفارت کاری میں توسیع کی بھی مظہر ہے۔اس سے یو اے ای کی معیشت کو متنوع بنانے میں بھی ملے گی۔

دریں اثناء چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بیجنگ یواےای کے ساتھ کووڈ-19 کی ویکسین کی مناسب قیمت پر تیاری کے لیے مل کرکام کرنا چاہتا ہے۔چینی وزیرخارجہ نے اپنے یو اے ای کے دو روزہ دورے میں اماراتی قیادت سے دوطرفہ سیاسی، تجارتی اور کاروباری تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جی 42 نے قبل ازیں سائنوفارم کے ساتھ ویکسین کی تقسیم اور تیاری کے دوسمجھوتے طے کیے تھے۔اس کو توقع ہے کہ وہ یو اے ای کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کو ویکسین تیارکرکے مہیّا کرے گا۔

اس گروپ نے گذشتہ سال جولائی میں بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بائیولاجیکل پراڈکٹ کی تیارکردہ ویکسین کی کلینکی جانچ کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا تھا۔یہ سائنوفارم کے چین نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی) کا ایک یونٹ ہے۔

یواے ای نے گذشتہ ستمبر میں سائنوفارم کی ویکسین کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے بعض گروپوں پراستعمال کی منظوری دی تھی اوراس کے بعد عام لوگوں کو لگانے کی منظوری دی تھی۔

اس کا کہنا ہے کہ ویکسین 86 فی صد تک مؤثر ہے جبکہ اس کی چینی تیارکنندہ فرم کا کہنا ہے کہ یہ 79۰34 فی صد تک مؤثر ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں بعض افراد کو سائنو فارم کی ویکسین کا تیسرا انجیکشن بھی لگانا پڑا ہے۔ان افراد کو پہلے ویکسین کی دو خوراکیں لگائی جاچکی تھیں لیکن ان میں کروناوائرس سے تحفظ کے لیے قوتِ مدافعت (اینٹی باڈیز) کے آثار نمودار نہیں ہوئے تھے۔تاہم محکمہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسنی کا کہنا تھا کہ ’’بعض لوگوں کو ویکسین کی تیسری خوراک لگائی گئی ہے لیکن پہلا یا دوسرا انجیکشن لگوانے والوں کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔‘‘