.

نہر سویز میں پھنسے بحری جہاز کے حوالے سے مصر کا آئندہ قدم کیا ہو سکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں نہر سویز اتھارٹی کے سربراہ اسامہ ربیع نے باور کرایا ہے کہ اگر پھنسے ہوئے جہاز پر لدے ہوئے مال کو کم کرنے کی ضرورت پیش آئی تو ان کا ملک بین الاقوامی مدد طلب کرے گا۔ یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصری حکام پھنسے ہوئے دیو ہیکل بحری جہاز کو کھینچنے کے ذریعے نہر سوئز کا بحران حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اتوار کے روز ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے اتھارٹی کے سربراہ نے بتایا کہ اس بات پر تمام لوگ متفق ہیں کہ مصر کی جانب سے لیے گئے اقدامات درست اور بروقت تھے۔

گذشتہ روز ہفتے کو اسامہ ربیع نے انکشاف کیا تھا کہ دیو ہیکل بحری جہاز کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ جہاز دوبارہ کب رواں دواں ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز پر اس وقت 18300 کنٹینر لدے ہوئے ہیں۔ اسامہ نے امید ظاہر کی کہ جہاز پر لدا مال کم کرنے کے لیے بعض کنٹینروں کو نکالنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

آج اتوار کے روز جہاز کھینچنے والی دو طاقت ور کرینوں نے نہر سوئز کا رخ کیا۔ اس کا مقصد کنٹینر بحری جہاز کو آزاد کرانے کی کوششوں میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ "ایور گرین" نامی جاپانی جہاز پر پناما کا پرچم لہرا رہا ہے۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان منتقل کرنے والا یہ دیو ہیکل جہاز منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے نہر سوئز میں ایک گزر گاہ میں پھنسا ہوا ہے۔

گذشتہ دنوں کے دوران میں پھنسے ہوئے بحری جہاز کے آگے کے حصے کی جانب تقریبا 20 ہزار ٹن ریت اٹھائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی کارگو کے حجم کا تقریبا 15 فی صد نہر سوئز سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش کے بعد اس وقت سیکڑوں بحری جہاز یہاں سے گزرنے کے منتظر ہیں۔ گذشتہ چند روز کے دوران میں تیل کی مصنوعات لے کر جانے والی بحری آئل ٹینکروں کے نرخوں میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر نہر سوئز کی بندش جاری رہی تو کارگو کمپنیاں ممکنہ طور پر جہازوں کا رُوٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کریں گی۔ اس کے نتیجے میں سفر کے دورانیے مں دو ہفتوں اور ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔