.

امریکا: دو نوعمرلڑکیوں پراُوبر کے پاکستانی نژاد ڈرائیور کے قتل کی فردِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پولیس نے دو نوعمر لڑکیوں پرگذشتہ ہفتے اُوبر کے پاکستانی تارک وطن ڈرائیور کے کاراغوا کی واردات کے دوران میں قتل کی فردِ جرم عاید کردی ہے۔

ان دونوں مسلح لڑکیوں نے 66 سالہ محمد انور سے کار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔وہ جب تیز رفتاری سے کارلے جانے لگیں تو مقتول اس کی ڈرائیونگ سائیڈ کی طرف لٹک گیا تھا اور چند ہی سیکنڈز کے بعد کار واشنگٹن نیشنلز کے باہر آدھی الٹ گئی تھی۔

اس تمام واقعے کی ویڈیو ایک راہگیر نے بنالی تھی اور اس کو ہفتے کے روز انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا۔اس کے مطابق کار کے اغوا اور پاکستانی ڈرائیور کے قتل کا یہ تمام واقعہ صرف ڈیڑھ منٹ میں پیش آیا تھا۔حملہ آور لڑکیوں نے محمد انور کو زخمی کردیا تھا اور ان کی ہونڈا اکارڈ فٹ پاتھ سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی تھی۔حادثے کے بعد محمد انور کی بے حس وحرکت لاش فٹ پاتھ پر پڑی دیکھی جاسکتی ہے۔

اتوار کی دوپہر تک ٹویٹر پراس واقعے کی ویڈیو کو 55 لاکھ مرتبہ دیکھاجاچکا تھا۔پولیس نے دونوں ملزمہ لڑکیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ان میں ایک کا تعلق ڈسٹرکٹ کولمبیا اور ایک کا اس کے ہمسایہ علاقے فورٹ واشنگٹن ،میری لینڈ سے بتایا گیا ہے۔

محمد انور سپرنگ فیلڈ (ورجینیا) کے نواحی علاقے میں رہتے تھے۔وہ اُوبرایٹس کے لیے ڈلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔انھیں’’گوفنڈمی‘‘ کی ایک پوسٹ میں سخت جانفشانی اور لگن سے کام کرنے والا پاکستانی تارک وطن قراردیا گیا ہے۔’’وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتر زندگی کے لیے پاکستان سے نقل مکانی کرکے امریکا منتقل ہوئے تھے۔‘‘

’گوفنڈمی‘‘کے نام سے ان کے خاندان کی جانب سے مہم شروع کی گئی ہے۔اس نے اتوار کی سہ پہر تک ان کی تجہیز وتکفین اور خاندان کی مالی مدد کے لیے پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم جمع کرلی تھی۔

ان کے خاندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ انور ایک محبت کرنے والے خاوند، باپ ،دادا،چچا اور دوست تھے،وہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے نظرآتے تھے۔ان کی ناگہانی موت پر خاندان جس کرب سے گزررہا ہے،اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔خاندان ان کی موت کے صدمے سے ٹوٹ کررہ گیا ہے،وہ دکھ اور صدمے سے دوچار ہے۔‘‘

اُوبر کے ایک نمایندے نے مقامی ریڈیو اسٹیشن ڈبلیو ٹاپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم اس الم ناک خبر کو سن کر صدمے سے دوچار ہیں۔ہم محمد انور کے خاندان سے اس مشکل وقت میں دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ واشنگٹن میں کاریں اغوا کرنے کے واقعات میں حالیہ مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رواں سال کے صرف پہلے پانچ ہفتوں میں کاراغوا کرنے کی 46 وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں صرف آٹھ واردتیں ہوئی تھیں۔واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کاریں اغوا کرنے کی کل 345 وارداتیں ہوئی تھیں۔اس طرح 2019ء کے مقابلے میں ایسی وارداتوں میں 143 فی صد اضافہ ہوا تھا۔