.

امریکی صدر کی میانمار فوج کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے خلاف خونی کریک ڈاون کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے میانمار(برما) میں فوج کے ہاتھوں نہتے مظاہرین کے خلاف خون ریز کریک ڈاون کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز میانمار کے مختلف شہروں میں فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور خونی کریک ڈاون میں سات بچوں سمیت کم سے کم 107 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انہوں نے اپنی آبائی ریاست ڈیلاور میں اپنے ایک مختصر بیان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ برما میں فوج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کے خلاف جو کچھ ہوا ہے وہ 'اشتعال انگیز' ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو ہوا وہ خوفناک ہے اور مجھے موصول ہونے والی اطلاعات میں پتا چلا ہے کہ برما کی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کیا ہے۔

ہفتہ کے روز میانمار میں یکم فروری کو فوج کے ذریعہ بغاوت انجام دینے کے بعد سے سب سے خونریز دن دیکھا گیا جب سات بچوں سمیت کم سے کم 107 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ میانمار میں فوج کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز فوج کی طاقت کے استعمال کی وارننگ کے باوجود کئی شہروں میں ہزاروں افراد فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ اس روز فوج کا قومی دن بھی منایا گیا اور فوجی پریڈ بھی دیکھی گئی۔ فوج کے سربراہ جنرل من آنگ ہلینگ نے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کے احکامات دیے تھے۔

ادھر یورپی یونین نے میانمار میں ہفتے کے روز تشدد کے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں چلانے کی شدید مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے ہفتے کے روز ہونے والے واقعات پر میمانمار کے لیے"دہشت اور شرم کا دن" قرار دیا۔

یورپی یونین کے وزیر خارجہ جوزپ بورریل نے ایک بیان میں کہا کہ میں برما کے عوام کے خلاف اندھے تشدد کی مذمت کرتا ہوں۔ برما کی فوجی لیڈر شپ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ پاگل پن کامظاہرہ نہ کرے اور عوام کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ایشیائی ملک میں تشدد کے واقعات کے مرتکب افراد اور جمہوریت اور امن کی راہ کی بحالی میں رکاوٹ ڈالنے کے ذمہ داروں کو نشانہ بنانے کے لیے پابندیوں سمیت دیگر تمام ضروری طریقے استعمال کریں گے۔

بورریل نے کہا کہ میانمار میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔