.

انٹونی بلینکن کی شام میں روس کے کردارپرتنقید،مزید سرحدی گذرگاہیں کھولنے کا مطالبہ 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے شام میں روس کے کردارپرنکتہ چینی کی ہے اور اس پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی شامی عوام کو بھوک کا شکار کرنے کی حمایت کررہا ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک کی مزید سرحدی گذرگاہیں کھولنے کی اجازت دے۔

وہ سوموار کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام شام سے متعلق ایک ورچوئل اجلاس میں اظہارخیال کررہے تھے۔اس اجلاس میں شام میں انسانی صورت حال پرغورکیا گیا ہے۔بلینکن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ’’ یہ کیسے ممکن ہے،ہمارے دلوں میں انسانیت کا درد ہی نہیں جاگے اور ہم کوئی معنی خیزاقدام نہیں کریں۔‘‘

اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام کی سرحدی گذرگاہیں دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ 2014ء کے بعد پہلی مرتبہ امدادی سامان شام میں داخل ہوسکےاور شامی عوام کو انسانی بحران کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔اس وقت شام اور ترکی کے درمیان واقع صرف ایک بارڈرکراسنگ باب الہوا ہی کھلی ہے،باقی تین سرحدی گذرگاہیں بند ہیں۔

روس اور چین شام میں امدادی سامان بہم پہنچانے کے لیے سرحدی گذرگاہیں کھولنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کا مؤقف ہے کہ اگر امدادی سامان کی تقسیم کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے تو یہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوگی۔

لیکن امریکی وزیرخارجہ نے ان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ’’خودمختاری کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی حکومت اپنے ہی عوام کو بھوک کا شکار کردے،انھیں زندگی بچانے والی ادویہ سے محروم کردے،اسپتالوں پر بم برسائے یا شہریوں کے دوسرے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرے۔‘‘

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کی باقی تین سرحدی گذرگاہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت دیں،وہ حملوں میں حصہ نہ لیں یاان کا کوئی جواز پیش نہ کریں،انسانی امدادی کارکنوں اور شامی شہریوں پرحملوں کو روکیں۔‘‘

اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے انسانی اموراورایمرجنسی ریلیف کے سربراہ مارک لوکاک نے کہا کہ ’’اس وقت شام میں رقوم کی عدم دستیابی اور سرحدی گذرگاہیں بند ہونے کی وجہ سے لوگ بہت کم خوراکی کا شکار ہیں۔‘‘

انٹونی بلینکن کی تقریرکے ردعمل میں روس اور چین نے امریکا پر تنقید کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کی یک طرفہ پابندیوں کے نتیجے میں شام میں انسانی صورت حال ابتر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن روسی ایلچی نے کوئی ثبوت پیش کیے بغیریہ الزام عاید کیا کہ امریکی فورسز تیل اور غذائی اجناس سے لدے ٹرک شام سے عراق منتقل کررہی ہیں۔

چینی سفیر نے کہا کہ ’’نظام کی تبدیلی کوئی آپشن نہیں تھا اور یہ چلنے کا نہیں۔شام میں پابندیوں کے نتیجے میں انسانی صورت حال ابتر ہوئی ہے۔‘‘انھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ ’’وہ دمشق سے شام کے شمال مغربی علاقے کی جانب ’’انسانی امداد روٹ‘‘ کو کھولنے میں مدد دے تاکہ سرحدی گذرگاہوں کوکھولنے کے بجائے اس روٹ کے ذریعے انسانی امداد تقسیم کی جاسکے۔‘‘

چینی سفارت کارکاکہنا تھا کہ ’’شام پریک طرفہ پابندیوں اور معاشی مقاطعہ کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ شام میں معمولاتِ زندگی کی بحالی میں مدد مل سکے۔‘‘انھوں نے بعض عرب ممالک کی شام کی عرب لیگ میں دوبارہ مولیت کے لیے کوششوں کوبھی سراہا۔یاد رہے کہ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد عرب لیگ نے شام کی رُکنیت معطل کردی تھی۔