.

سعودی ولی عہد کا نجی شعبے سے شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے نیا پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نےنجی شعبے کی تقویت کے لیے ایک نیا شراکتی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس پروگرام کے تحت نجی شعبے کے ساتھ مل کر 120 کھرب سعودی ریال کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ولی عہد نے منگل کے روز وزراء ،مملکت کی نمایاں کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے سربراہوں کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس میں ’’سعودی عرب شراکت پروگرام‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد مملکت میں نجی شعبے کے ساتھ حکومت کی شراکت داری اور قومی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

انھوں نے اپنی نشری تقریر میں اس بات پر زوردیا ہے کہ ’’ایک فعال اورخوش حال نجی شعبے کا قیام سعودی عرب کی قومی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ نجی شعبے کا مملکت کی معیشت کی ترقی اورخوش حالی میں اہم کردارہے۔اس لیے حکومت ویژن 2030ءکے تحت طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے کی معاونت جاری رکھے گی۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’مملکت میں آیندہ برسوں کے دوران میں سرمایہ کاری میں 30 کھرب ریال کا اضافہ ہوگا۔2030ء تک پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سے یہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔مزید برآں قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کے تحت 40 کھرب ریال کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔اس کی تفصیل کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔‘‘

انھوں نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ’’2030ء تک قومی معیشت میں 120 کھرب ریال سرمایہ کاری کی مد میں شامل ہوں گے۔اس سے نجی شعبے میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔آیندہ ایک عشرے کے دوران میں شراکتی پروگرام کے تحت نئی سرمایہ کاری سے سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں نجی شعبے کا حصہ 65 فی صد تک ہوجائے گا۔‘‘

انھوں نے واضح کیا کہ’’نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کردہ رقم میں آیندہ 10 سال کے دوران میں حکومت کے قریباً 100 کھرب ریال کے اخراجات شامل نہیں ہوں گے۔اس کے علاوہ نجی شعبے میں 50 کھرب ریال کے اخراجات متوقع ہیں۔اس طرح آیندہ ایک عشرے کے دوران میں سعودی عرب میں 270 کھرب ریال (70 کھرب ڈالر)خرچ کیے جائیں گے۔ان مصارف سے سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں کی مسابقانہ صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘