.

امریکا کی ایران ،چین ،روس اورشام پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرکڑی تنقید 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے دنیا میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق نئی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے اور اس میں ایران ، چین ، روس اور شام سمیت کئی ایک ممالک پر حزب اختلاف کی شخصیات کو متشدد کریک ڈاؤن میں نشانہ بنانے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

امریکا کا محکمہ خارجہ ہرسال انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق کانگریس کو ایسی رپورٹ پیش کرتا ہے۔اس میں امریکا سے امداد وصول پانے والے ممالک اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی صورت حال کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’’2020ء میں بہت سے لوگ سفاک اور ابتر ماحول میں مصائب جھیلتے رہے ہیں۔‘‘رپورٹ میں چین کا بہ طور خاص حوالہ دیا گیا ہے جس کے جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ میں یغور مسلمانوں سے ابتر ناروا سلوک کیا جارہا ہے اورچینی حکام نے ایک طرح سے ان کے خلاف نسل کشی کی مہم برپا کررکھی ہے۔اس کے علاوہ شامی صدر بشارالاسد پر کڑی تنقید کی گئی ہیں۔انھوں نے شام میں عوام کے خلاف مظالم اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں روس کو حکومت مخالف سیاسی شخصیات اور پُرامن مظاہروں کے شرکاء کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر تنقیدکا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سرکاری محکموں میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔

محکمہ خارجہ نے ایران کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے سرکاری حکام نے نہ صرف اپنے شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ وہ شام ، عراق اور یمن میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔یہ کام شام میں اسد نظام ، لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں ایران کی گماشتہ شیعہ ملیشیاؤں کو فوجی امداد مہیّا کرکے کیا جارہا ہے۔

یمن میں ایران نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے مقابلے میں حوثی ملیشیا کی مالی ، سیاسی اور عسکری امداد جاری رکھی ہوئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں اس ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا لیکن صدر جوبائیڈن نے برسراقتدار آنے کے بعد حوثی ملیشیا پرامریکا کا عاید یہ لیبل ہٹا دیا تھا۔

رپورٹ میں حوثی ملیشیا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے یمنیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اس نے یمن کے اندر اور سرحدپار سعودی عرب کی جانب بیلسٹک میزائل اوربارود سے لدے ڈرونز سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس میں یمنی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے میں ناکامی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔اس کے مطابق حوثیوں کا ملک کے شمال میں سرکاری اداروں پر کنٹرول نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے یمنی حکومت کی ان علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے صلاحیت مسدود ہوکررہ گئی ہے۔‘‘

رپورٹ میں ترکی پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک پر اپنی پختہ گرفت قائم کررکھی ہے۔ان کی حکومت نے اپنے مخالف سیکڑوں سیاسی کارکنان اور صحافیوں کو گرفتار کیا ہے اور انھیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں یا سرکاری حکام کے خلاف تحقیقات ، قانونی چارہ جوئی اور انھیں سزا دلوانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ان سرکاری اہلکاروں کو ایک طرح سے استثنا حاصل ہے۔

اس رپورٹ میں کسی بھی ملک کو نہیں بخشا گیا ہے۔البتہ امریکا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کو سراہا ہے۔اس میں ایک شاہی فرمان کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت کم سن مجرموں کی سزائے موت ختم کردی گئی ہے اور انھیں اب اس کے بجائے دس سال قید بھگتنا ہوگی۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں خواتین کو کسی مرد رشتے دار کے ساتھ کے بغیر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیاگیا ہے۔