.

امریکا کاسعودی عرب کوحوثیوں کی جارحیت سے نمٹنے کے لیےاسلحہ اورفوجی تربیت دینے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا یمن سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے فضائی حملوں کے ردعمل میں سعودی عرب کو دفاعی ہتھیار فروخت کرنے اور اس کی فورسز کوفوجی تربیت دینے پرغورکررہا ہے۔

’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے جمعرات کو امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’اس وقت سعودی عرب کو مخصوص دفاعی ہتھیار بہ شمول میزائلوں کا سراغ لگانے والے نظام کی فروخت ،سراغرسانی کے تبادلے میں اضافے،اضافی فوجی تربیت اور دونوں ملکوں کے درمیان تبادلے کے پروگراموں میں توسیع کے آپشن زیرغور ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی اخبار کی اس رپورٹ سے دوماہ قبل بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کو تین ہزار گائیڈڈ ہتھیاروں کی فروخت مزید جائزے تک منجمد کردی تھی۔

یمن سے حوثی ملیشیا نے جنوری کے بعد سے سعودی عرب کے شہری علاقوں اور شہری ڈھانچے کی جانب بیلسٹک میزائلوں اوربارود سے لدے ڈرونز سے حملے تیز کررکھے ہیں۔ان فضائی حملوں میں خاص طور پر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ایک امریکی عہدہ دار نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یمن میں تنازع کے آغازکے بعد سے پہلی مرتبہ بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔‘‘

امریکی عہدے داروں نے حوثیوں کی جارحیت کے مقابلے میں سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’سعودی اس مواد (بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز) کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔وہ بہتر سے بہتراقدام کررہے ہیں۔‘‘

ایک عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’حوثیوں کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کے حقِ دفاع کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے جنوری میں اقتدارسنبھالنے کے لیے حوثی ملیشیا اور اس کے مرکزی لیڈروں کے نام بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیے تھے۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں حوثی ملیشیا کو دہشت گرد قراردیا تھااور اس کے تین لیڈروں کے نام دنیا کے خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیے تھے۔

صدر بائیڈن نے فروری میں یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت سے بھی دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔عرب اتحاد نے 2015ء میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی درخواست پر فوجی مداخلت کی تھی اور وہ حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے فیصلے سے قطع نظرحوثیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

امریکی کانگریس کے ارکان کے ایک گروپ نے گذشتہ سوموار کووزیرخارجہ انٹونی بلینکن کوایک خط لکھا تھا اور اس میں ان پر زوردیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد تنظیم قراردیں۔