.

اٹلی میں روسی جاسوسی اسکینڈل، روم میں روسی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کی وزارت خارجہ نے بُدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے روم میں متعین روسی سفیر کو طلب کر کے اٹلی میں جاسوسی کی سرگرمیوں‌پر سخت احتجاج کیا ہے۔ روم کی جانب سے روس کے خلاف احتجاج ایک اطالوی افسر کی روس کے لیے جاسوسی کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔ اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں‌نے ایک مقامی افسر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے جس نے جاسوسی کے مقاصد کے لیے روسی افسر سے ملاقات کی تھی اور اسے ریاست کے اہم رازوں کے بارے میں' خفیہ دستاویزات' فراہم کی تھیں۔ دوسری طرف برطانیہ نے بھی روسی سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جبکہ کریملن نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ جاسوسی کے الزام ایک اطالوی کی گرفتاری کے معاملے کی چھان بین کررہا ہے۔ کریملین کا کہنا ہےکہ ایک اطالوی افسر کو روسی افسر کے ساتھ خفیہ راز شیئر کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود روس اور اٹلی کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے ایک بیان میں کہا کہ امید ہے کہ اٹلی اور روس کےدرمیان مثبت تعلقات میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی وزارت خارجہ جاسوسی کیس کے بارے میں مکمل طور پر لا علم ہے۔

درایں اثنا برطانوی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لندن خطے میں روسی سرگرمیوں کو'عدم استحکام' پیدا کرنے کا سبب قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتا ہے۔ وزیر خارجہ ڈومینک راب نے یہ بات اسی جاسوسی اسکینڈل کے تناظر میں کہی۔

کل بدھ کو اطالوی وزارت خارجہ کے روم میں تعینات روسی سفیر سیرگی رازوف کووزی خارجہ لویگی ڈی مایو کی ہدایت پر دفتر خارجہ میں طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ یہ طلبی منگل کے روز اطالوی نیوی کے ایک افسر کی گرفتاری کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مقامی افسر روسی جاسوسوں کے ساتھ ملا ہوا تھا جس نے خفیہ معلومات روسی جاسوس کو شیئر کی تھیں۔