.

فرانس کی حکومت تُرک سوسائٹی سے نالاں کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں بعض ترک انجمنوں کا مسئلہ ابھی تک حکام کے لیے پریشانیوں کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان انجمنوں پر الزام ہے کہ یہ فرانس میں غیر ملکی ایجنڈوں اور ترک منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے باور کرایا ہے کہ ترک سوسائٹی "ملّی گروش" کی فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے کیوں کہ اس نے ملکی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔

ترجمان گبریال اتال نے گذشتہ روز فرانسیسی ریڈیو اسٹیشن "BFM" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذکورہ ترک سوسائٹی ریاست کے خلاف ، خواتین اور مردوں کے درمیان برابری کے خلاف اور انسانی عزت نفس کے خلاف کام کر رہ ہے۔

ترجمان نے زور دیا کہ اس سوسائٹی کو فرانسیسی جمہوریہ میں کوئی سرگرمی انجام نہیں دینا چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ بیان مذکورہ سوسائٹی پر پابندی عائد کرنے کا اعلان نہیں ہے۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانن نے "لوبواں" اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ "ریاست ان جماعتوں پر کڑی نظر رکھے گی جنہوں نے متعلقہ منشور پر دستخظ سے انکار کر دیا ہے۔ دستخط سے انکار نے اس بات کو بے نقاب کر دیا ہے کہ ہماری سرزمین پر غیر ملکی مداخلت کا سایہ پڑ رہا ہے اور شدت پسند تحریکیں یہاں کام کر رہی ہیں"۔

واضح رہے کہ "ملّی گروش" سوسائٹی نے شدت پسندی کے خلاف اس منشور پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جو فرانسیسی حکومت کی رابطہ کاری سے طے پایا ہے۔

ملی گروش کے علاوہ دو دیگر تنظیموں نے بھی رواں سال جنوری میں اس منشور پر دستخط کو مسترد کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ ملی گروش ایک ترک سوسائٹی ہے جس کا صدر دفتر جرمنی کے شہر کولون میں ہے۔ اس سوسائٹی کو ترکی کے ایک سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان نے قائم کیا تھا۔ اربکان کو موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا "استاد" شمار کیا جاتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں کے درمیان متعدد اختلافات سامنے آنے کے بعد انقرہ اور پیرس کے بیچ تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماکروں نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ترکی آئندہ فرانسیسی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے۔