.

خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں‌ گے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی فوج کے ترجمان کرنل فریڈرک باربری نے 'العربیہ' چینل کو دیئے گئے بیان میں تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی فوج نے خلیج میں داعش کے خلاف جنگ کی کمان امریکا سے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس اور دوسرے ممالک بھی خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے۔

فرانسیسی فوج کے ترجمان نے کہا کہ خلیج میں ہماری افواج نیوی گیشن کی آزادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو یقینی بنانے کے لیے بیک وقت کئی محاذوں‌ پر کام کریں گی۔

کرنل باربری نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں نیول فورسز کے اتحاد کی کمان سنھبالنا 'داعش' مخالف عالمی اتحاد کا فرانس پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں‌نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس کی افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مشن میں عراق اورشام میں اڑان بھرے گی۔

فرانسیسی وزیر دفاع نے گذشتہ بدھ کو اعلان کیا تھا کہ فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز "چارلس ڈی گال" نے ابوظبی کے مشن کے تحت داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی بحری فورس کی کمان سنبھالی ہے جس میں خلیج میں نیوی گیشن کی آزادی کو یقینی بنانا بھی شام ہے۔

وزیر فلورنس پارلی نے ٹویٹر پر کہا کہ چارلس ڈی گال نے داعش کا مقابلہ کرنے کے نیول فورس کمان سنبھالی ہے۔ سنہ 2015ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب فرانس نے اس ذمہ داری امریکا سے اپنے ہاتھ میں لی ہے۔