.

مذاکرات میں ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کا امکان نہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس نے ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اجلاس کا خیر مقدم کیا اور اس کو ممکنہ تعمیری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے پر بات چیت کے عمل کے دوران ایران سے براہ راست مذاکرات کی توقع نہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ویانا میں ایران کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کو تعمیری اقدام کے طور پر دیکھتا ہے لیکن وہ سفارتکاری کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہے اور اسے توقع نہیں ہے کہ اب براہ راست مذاکرات ہوں گے۔

ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ آئندہ جوہری معاہدے کے لیے مُذاکرات مشکل ہیں لیکن وہ صحیح راہ پر گامزن ہیں۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پابندیوں کو ختم کرنے کا معاملہ ایران کی سنہ 2015 میں مغرب کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی شرایط پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔ ایران نے معاہدے کی بہت سی شرائط سے دست برداری اختیار کی تھی۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں واپسی کے لیے اپنے یورپی، روسی اور چینی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت پر اتفاق کیا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ فوری پیشرفت کی توقع نہیں رکھتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ابھی بہت جلدی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں مشکل بحثیں ہوں گی لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک صحت مند قدم ہے۔