.

واشنگٹن:پولیس اہلکارکی ہلاکت پروائٹ ہاؤس میں پرچم سرنگوں،حملہ آورنفسیاتی مریض تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں کیپٹول کی عمارت کے باہر ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے سوگ میں صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ حملہ آور کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ بے روزگار ہونے کے بعد نشے کا عادی اور نفسیاتی عارضے کا شکار ہوچکا تھا۔

امریکی کیپٹول کے باہر جمعہ کو ایک ڈرائیور نے اپنی کار پولیس اہلکاروں پر چڑھادی تھی اور پھران پر چاقو سے حملہ کردیا تھا جس سے ایک پولیس اہل کار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔پولیس نے اس مشتبہ حملہ آور کو موقع پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

یوایس کیپٹول پولیس کی قائم مقام سربراہ یوگاننڈا پٹمین نے نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ اس حملہ آور نے پہلے اپنی کار پولیس اہلکاروں پر چڑھائی تھی،پھر ایک رکاوٹ سے ٹکرادی تھی اور باہر نکل کر پولیس اہلکاروں پر چاقو کے وار کیے تھے۔

انھوں نے مقتول پولیس اہلکار کی شناخت ولیم بیلی ایوانس کے نام سے کی ہے۔ وہ گذشتہ اٹھارہ سال سے کیپٹول پولیس میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ان کے دو بچے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ زخمی پولیس اہلکار کی حالت بہتر ہے اور ان کے زخم جان لیوا نہیں۔

واشنگٹن میں میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ رابرٹ کونٹی کا کہنا ہےکہ’’بظاہر اس واقعہ کا دہشت گردی سے تعلق نہیں۔ ہم اس کی تحقیقات جاری رکھیں گے۔‘‘

امریکا کے مختلف میڈیا اداروں نے ذرائع کے حوالے سے مشتبہ حملہ آور کی شناخت نوح گرین کے نام سے کی ہے۔اس کی عمرپچیس سال تھی اور وہ نیوپورٹ ، ورجینیا کا رہنے والا تھا۔اس کے بھائی برینڈن گرین نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ وہ منشیات کا عادی ہوچکا تھااور نفسیاتی عارضے میں مبتلا تھا۔ خاندان کو اس کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش لاحق تھی۔اس نے جمعرات کواپارٹمنٹ چھوڑنے اور بے گھر زندگی گزارنے سے متعلق ایک ٹیکسٹ پیغام بھی بھیجا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نوع گرین نے فیس بُک کی ایک پوسٹ میں’’وقت کے خاتمہ‘‘ عیسائیت مخالف اور حکومت کے ’’ذہن کو کنٹرول‘‘ کرنے کے بارے میں گفتگو کی تھی۔وہ ملازمت کھوجانے کے بعد بے روزگارتھا اور اس نے ’نیشن آف اسلام‘ کے لیڈر لوئی فراخان کی بھی تعریف کی تھی۔

تاہم پولیس سربراہ کونٹی کا کہنا تھا کہ ’’وہ اس مشتبہ ملزم اور اس کے محرکات کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں جانتے تھے۔فی الوقت ہمیں اس کے ارادوں کے بارے میں کچھ نہیں پتا اور صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ اس کی راہ میں جوکوئی بھی آتا، وہ اس پرحملہ آور ہوسکتا تھا مگر اب ہم اس تمام واقعہ کی تہ تک پہنچیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کی خفیہ ایجنسیوں نے مارچ میں خبردار کیا تھا کہ نسل پرست متشدد انتہا پسند شہریوں پر بڑے حملے کرسکتے ہیں یا ملیشیا گروپ پولیس ، سرکاری اہلکاروں یا عمارتوں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔کیپٹول ہل میں جنوری میں سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کے دھاوے کے بعد تشدد کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔ٹرمپ کے حامیوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا اور دو نے بعد میں خودکشی کرلی تھی۔