.

میانمر میں فوجی انقلاب مخالف مظاہرین کی ایسٹر کے نعروں پر مبنی ’انڈا ہڑتال‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمر میں فوجی انقلاب مخالف مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اپنی مزاحمتی تحریک میں نئی روح پھونکنے کے لیے نت روز نئے نئے طریقے آزما رہے ہیں۔

اتوار کے روز احتجاج کے لیے انھوں نے ایک منفرد طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔انھوں نے ہاتھوں میں رنگے ہوئے انڈے پکڑ رکھے تھے اور ان پر ایسٹر کی مناسبت سے فوجی جنتا کی جمہوری حکومت مخالف کارروائی کے خلاف نعرے درج تھے۔

میانمر کے سب سے بڑے شہر ینگون میں مظاہرین کے ایک گروپ نے انسین کے علاقے میں ایک شاہراہ پر احتجاجی مارچ کیا اور نعرے بازی کی۔انھوں نے انڈوں پر ’’انقلابِ بہار‘‘ کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔انڈوں پر تین انگلیوں کے سلیوٹ کی تصویر بھی بنائی گئی تھی۔ یہ دراصل یکم فروری کو برپا شدہ فوجی انقلاب کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔

میانمر کے دوسرے بڑے شہرمینڈالے میں مظاہرین صبح کے وقت موٹرسائیکلوں پراحتجاج کے لیے گھروں سے نکلے تھے اور انھوں نے ایک جگہ جمع ہو کر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے پر فوج کے خلاف نعرے بازی کی۔

میانمر کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے مظاہرین اور حزب اختلاف کے دوسرے گروپوں کے خلاف متشدد کریک ڈاؤن کیا ہے۔ایک آزاد تنظیم کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک سکیورٹی فورسز کی تشددآمیز کارروائیوں میں 557 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔2750 زیرحراست ہیں یا انھیں سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

اتوار کو ’’ایسٹر انڈا ہڑتال‘‘ سے قبل بھی فوجی بغاوت کے مخالفین مختلف ایام کی مناسبت سے احتجاج کرچکے ہیں۔اس سے پہلے انھوں نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ’’پھول ہڑتال‘‘ کی تھی اور عوامی مقامات پر مرنے والوں کی یاد میں پھول رکھے تھے۔ایک روز ’’خاموش ہڑتال‘‘ کی گئی تھی اورملک بھر میں برمی شہری کام کاج کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکلے تھے اور سڑکیں سنسان رہی تھیں۔

اس احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے فوج نے شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔سکیورٹی فورسز کے اہلکار دن کے وقت مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہیں تو فوجی رات کو عام شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے ان کے گھروں پر سنگ باری کرتے ہیں یا کریک ڈاؤن کارروائیاں کرتے ہیں۔ وہ احتجاج کرنے والوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ہفتے کے روز میانمر کے وسطی شہر مونیوا میں پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی تھی جس سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔