.

دسیوں خواتین کی عصمت دری میں ملوث بدنام زمانہ حوثی عہدے دار کی پراسرار موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں کی حکومت (عالمی سطح پر غیر تسلیم شدہ) کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے ایک بیان میں فوجداری تحقیقات کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل سلطان صالح زابن کے انتقال کا اعلان کیا ہے۔ تاہم بیان میں سلطان کی موت کے حالات اور مرض کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

ایک طرف حوثی ملیشیا سلطان کی موت پر آنسو بہا رہی ہے تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر بہت سے یمنیوں نے صنعاء کی جیلوں میں اس بدنام زمانہ کمانڈر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی گواہیوں اور لا تعداد رپورٹس کی یاد دہانی کرائی ہے۔ سلطان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے سبب امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے سزا یافتہ تھا۔

حوثی ملیشیا
حوثی ملیشیا

فروری 2021ء میں سلامتی کونسل کی جانب سے جاری قرارداد 2564 میں سلطان کو جسے حوثیوں کے "فیلکن ونگز" کا ایگزیکٹو ممبر قرار دیا جاتا ہے ۔۔۔ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس پر ڈرانے دھمکانے، استیصال، حبس بے جا میں رکھنے، تشدد، جنسی تشدد اور خواتین کی آبرو ریزی کے الزامات تھے۔

اسی طرح امریکی وزارت خزانہ نے بھی دسمبر 2020ء میں شہریوں پر تشدد میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت سلطان اور دیگر حوثی رہ نماؤں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

حوثی ملیشیا
حوثی ملیشیا

صنعاء میں فوجداری تحقیقات کے شعبے کا ڈائریکٹر مقرر ہونے کے بعد سلطان کا نام متعدد بار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹوں میں سامنے آیا۔ ان خلاف ورزیوں میں یمنی خواتین کی گرفتاریاں، انہیں خفیہ جیلوں میں قید کے دوران تشدد کا نشانہ بنانا شامل ہے۔

مقامی میڈیا اور گرفتار سے رہائی پانے والی خواتین کے بیانات کے مطابق دہشت اور بربریت پھیلانے والے حوثی کمانڈر سلطان نے اغوا ہونے والی یمنی خواتین کے خلاف دھمکانے، منظم گرفتاریوں، حراست میں رکھنے، تشدد اور جنسی حملوں کی باقاعدہ مہم میں نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ سلطان کو "ابو صقر" کے نام سے مشہور تھے۔ اس نے 2011ء سے 2013ء کے درمیان ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ ملیشیا کے ماہرین کے ہاتھوں تربیت حاصل کی۔ حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی کے ساتھ اس کا قریبی اور گہرا تعلق تھا۔