.

ترکی میں 2016ء کی بغاوت میں ملوث 22 فوجی افسروں کو عمر قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک فوج داری عدالت نے سنہ 2016ء کی حکومت مخالف بغاوت میں ملوث کم سے کم 22 فوجی افسروں کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ایک سابق ترک وکیل کے مطابق سابق ترک فوجیوں کو سن 2016 میں بغاوت کی ناکام کوشش میں کلیدی کردار ادا کرنے کے مرتکب قرار دیتے ہوئے بُدھ کے روز عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عالمی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مسلح فوجی بغاوت کو کچلے جانے کے بعد فوج میں بغاوت کے حامی عناصر کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کیا گیا تھا جس میں سیکڑوں فوجی افسروں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

سزا پانے والے افسران 497 فوجی افسران میں شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت نے صدارتی گارڈز میں خدمات انجام دیں۔ ان کے خلاف انقرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

گذشتہ برس نومبر میں 337 فوجی افسروں اور دوسرے ملزما کو قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ انہیں سنہ 2016ء کی بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

دوسری طرف 60 افراد کو مختلف قید کی سزائیں سنائی گئیں جبکہ ایک مقدمے 75 افراد کو بری کردیا گیا۔ ان کیسز میں مدعا علیہان کو عدالتوں کے سامنے لایا گیا۔

خیال رہےکہ ترکی میں سنہ 2016ء کی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں سرکاری طور پر 251 افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔