.

سعودی وزارتی کونسل کا اجلاس؛بچّہ مزدوری پرپابندی کے لیے قومی پالیسی کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس میں بچّہ مزدوری پر پابندی کے لیے قومی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔اس پالیسی کو متعارف کرانے کا مقصد تمام بچّوں کو سعودی مملکت میں ایک محفوظ ماحول مہیّا کرنا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیر اور چیئرمین عائلی امورکونسل احمد بن سلیمان الراجحی نے حقوق اطفال کے تحفظ کے لیے قانون کی منظوری اور انتظامی اقدامات کو بروئے کارلانے پر مملکت کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور اس ضمن میں اس کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب میں اس وقت کسی بھی جگہ ملازمت یا روزگار کے لیے کم سے کم حد عمر 15 سال مقرر ہے۔سعودی عرب نے عالمی تجارتی تنظیم(آئی ایل او) کے 2001ء میں منظور کردہ کنونشن نمبر 182 کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے یہ حد عمر مقرر کی تھی۔یہ کنونشن بچّہ مزدوری (چائیلڈ لیبر)کی بدترین شکل کے نام سے بھی معروف ہے۔

سعودی عرب کی قومی پالیسی برائے امتناع بچّہ مزدوری کے تحت آئی ایل او کی معاونت سے ایک ڈیٹابیس بھی بنایا جائے گا۔اس سے کام کے مراکز، مارکیٹوں ، کارخانوں میں بچّہ مزدوروں کا سراغ لگایا جاسکے گا۔اس میں 18 سال سے کم عمر کے بچّوں کے لیے ممنوعہ کاموں کی ایک فہرست بھی شامل ہے۔اس قومی پالیسی کا مقصدسماجی کام اور سماجی تحفظ کے میکانزم کو بہتر بنانا،اس شعبے میں ماہرانہ صلاحیتوں کی تعمیر،تمام بچّوں کو مساوی معیاری تعلیم کے مواقع مہیا کرنااور بچّہ مزدوری سے متعلق شعوراجاگرکرنا ہے۔