.

سعودی ولی عہد کا شمسی توانائی سے چلنے والے سکاکا پاورپلانٹ کے افتتاح کا اعلان 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شمسی توانائی سے چلنے والے سکاکا آئی پی پی، پی وی پاور پلانٹ کے افتتاح کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی اطلاع کے مطابق سکاکا مملکت کا قابل تجدید توانائی کا پہلا منصوبہ ہے۔ سعودی عرب نے شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی ہدایات کی روشنی میں قومی معیشت کی ترقی کے لیے بجلی کی پیداوار کے سات سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔ سکاکاپاور پلانٹ کا بھی ان کی ہدایات کی روشنی میں آغاز کیا جارہا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو اس منصوبے کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ ’’چند ہفتے قبل ’سبز سعودی اقدام‘ اور ’سبز مشرق اوسط اقدام‘کا اعلان کیا گیا تھا۔میں یہ وضاحت کروں گا کہ سعودی عرب دنیا میں تیل کے سب سے بڑے پیدا کنندہ ملک کی حیثیت سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمے داریوں سے کماحقہ آگاہ ہے۔ توانائی کی مارکیٹوں میں استحکام کے لیے اپنے قائدانہ کردار کے تسلسل کے طور پرہم قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’یہ موقع توانائی کے تمام شعبوں میں قائدانہ کردار کی حیثیت سے ہمارے اس عزم کی اہمیت اور جدوجہد کو اجاگرکرتا ہے جو ہم محفوظ توانائی کی پیداوار اور استعمال کے لیے کررہے ہیں۔آج ہم سکاکا آئی پی پی پی وی کے افتتاح اور آپریشن کا مشاہدہ کررہے ہیں۔مملکت میں قابل تجدید توانائی سے استفادہ کی جانب یہ پہلا قدم ہے۔ بہت جلد دومۃ الجندل میں ہوا سے توانائی کے منصوبہ کا تعمیراتی کام بھی مکمل ہوجائے گا۔‘‘

ریکارڈ اثرات

ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں شمسی توانائی کے سات نئے منصوبوں کی تعمیر سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے گئے ہیں۔سعودی ولی عہد کے مطابق ان منصوبوں کی پیداواری صلاحیت 3600 میگاواٹ ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد 6 لاکھ سے زیادہ گھروں کو بجلی مہیا ہوگی اور اس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 70 لاکھ ٹن سے زیادہ کی کمی واقع ہوگی۔ان میں سے بعض منصوبوں سے بہت کم لاگت میں بجلی تیار ہوگی اور یہ ایک نیا عالمی ریکارڈ ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ان کے علاوہ بھی سعودی عرب میں تعمیر کیے جانے والے قابل تجدید توانائی کے دوسرے منصوبوں میں توانائی کے استعمال سے بجلی کی پیداوارکے لیے ہماری حکمت عملی میں وضع کردہ تمام لوازم کو شامل کیا گیا ہے۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ’’ہم 2030ء تک ہر گیس اور قابل تجدید توانائی کا بجلی کی پیداوار میں 50 فی صد حصہ چاہتے ہیں اورگیس اور قابل تجدید توانائی کو مائع گیس کا متبادل بنانا چاہتے ہیں۔اس کو بجلی کی پیداوار، پانی کو صاف کرنے اور دوسرے شعبوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔‘‘

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے جی 20 کے صدر ملک کی حیثیت سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جن منصوبوں اور اہداف کا اعلان کیا تھا،وہ اب ان پرعمل پیرا ہے اور وہ پائیدار اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔