.

ایرانی تخریبی سرگرمیوں‌ پر بات چیت کے لیے 'موساد' چیف کا دورہ امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی جوہری معاہدے پر امریکا کی واپسی کے بارے میں اسرائیلی انتباہات جاری ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس 'موساد' کے سربراہ 'یوسی کوہن' آنے والے دنوں میں ایک سرکاری وفد کے ساتھ امریکا پہنچیں گے۔ یوسی کوہن ایرانی سرگرمیوں کے بارے میں امریکی حکام کو شواہد پیش کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کو چھپا رہا ہے۔

'العربیہ' کو معلوم ہوا کہ موساد چیف 'یوسی کوہن' خطے میں ایران کی فوجی سرگرمیوں سے متعلق انٹیلی جنس فائل کے ساتھ ساتھ تہران کے فوجی جوہری منصوبے سے متعلق پیشرفت پر بھی بات چیت کریں گے۔

امریکا میں "موساد" کے سربراہ کے ایجنڈے میں ایران کو مکمل طور پر یورینیم کی افزودگی سے روکنا، جدید سنٹری فیوجز کی تیاری کو روکنا اور بلا استثنیٰ تمام ایٹمی تنصیبات عالمی توانائی ایجنسی'آئی اے ای اے' کے معائنے کے لیے کھلونا ہے۔

توقع ہے کہ شام، عراق اور یمن میں ایرانی پوزیشن اور سرگرمی کو روکنے ، ایران کو دنیا بھر میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے ساتھ بیلسٹک میزائل منصوبے کو روکنے اور اس پر پابندیاں برقرار رکھنے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران اسرائیل نے ایران نے اپنے ملیشیاؤں کے لئے مالی اعانت اور اسلحہ سازی کے منصوبوں کو کئی ہڑتالوں کا نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام میں ایرانی مقامات پر تقریبا ایک ہزار فضائی حملے کیے ہیں۔ان حملوں کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کی تہران سے دمشق جانے والی پروازوں کے ذریعے حزب اللہ ملیشیا کو رقم اور اسلحہ بھیجنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

سنہ 2018ء کو امریکا کی جانب سے ایران پر عاید کی گئی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں بھی تہران کو مالی طور پر مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ خطے میں‌ تہران کی پراکسی قوتوں تک رقوم اور اسلحہ کی منتقلی میں بھی مشکلات پیش آئیں۔