.

ایران نے 3 ماہ بعد جنوبی کوریا کا تیل بردار بحری جہاز چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیؤل حکومت نے آج جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ ایران نے جنوبی کوریا کا پرچم بردار تیل بردار بحری جہاز آزاد کر دیا ہے۔ ایران نے اس جہاز کو رواں سال جنوری میں خلیج کے پانی میں تحویل میں لے لیا تھا۔ اس دوران میں تہران حکومت جنوبی کوریا میں اپنے اربوں ڈالروں کے اثاثے آزاد کرانے کے واسطے دباؤ ڈال رہی تھی ، یہ اثاثے امریکی پابندیوں کے تحت منجمد کر دیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے 4 جنوری کو جنوبی کوریا کے تیل بردار بحری جہاز "ایم ٹی ہینکوک کیمی" اور اس کے عملے کو آبنائے ہرمز کے نزدیک اس دعوے کے ساتھ پکڑ لیا تھا کہ یہ جہاز سمندری ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔ جہاز پر 20 ماہی گیر سوار تھے۔ ان میں کپتان سمیت 5 کا تعلق جنوبی کوریا سے ، 11 کا تعلق میانمار سے اور دو ، دو ماہی گیروں کا تعلق انڈونیشیا اور ویت نام سے ہے۔

بعد ازاں 2 فروری کو ایرانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی کوریائی کپتان کے سوا بقیہ تمام زیر حراست ماہی گیروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تہران کے مطابق یہ اقدام جنوبی کوریا کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔

ایران کا کہنا تھا کہ تیل بردار جہاز اور اس کے کپتان کے حوالے سے قانونی تحقیقات جاری ہیں۔ جہاز کے مالک نے تہران حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ تیل بردار جہاز "ماحولیاتی آلودگی" کا سبب بن رہا تھا۔