.

ویانا : ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے اہم اجلاس جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آج جمعے کے روز ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ یورپی یونین کے مطابق اجلاس میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، روس، چین اور ایران شرکت کر رہا ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ویانا میں ایران کے ساتھ بات چیت کا دوبارہ آغاز آئندہ چند روز یا ایک ہفتے میں متوقع ہے۔ وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مشکل ہوں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائش کے مطابق جوہری معاہدے سے متعلق ویانا بات چیت کے حوالے سے توقعات میں مبالغہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بیلسٹک میزائل کے پروگرام اور دہشت گردی کی سپورٹ سے متعلق پابندیاں ایران پر برقرار رہیں گی۔

یورپی مشن نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ ویانا میں آج ہونے والے اجلاس کی صدارت انریکی مورا کریں گے۔ وہ یورپی یونین کی طرف سے جوزف بوریل کی نیابت کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے معاون عباس عراقجی نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ ویانا بات چیت جمعے کے روز ہو گی۔ بعد ازاں شریک وفود مشاورت کے لیے اپنے ممالک لوٹ جائیں گے اور بات چیت مکمل کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ویانا واپس لوٹیں گے۔ عراقجی کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا بات چیت کامیاب ہو گی یا نہیں ،،، البتہ اسے تعمیری اور پیش رفت کو ممکن بنانے والی کہا جا سکے گا۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں روس کے مندوب میخائل اولیانوف نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ ایرانی جوہری معاہدے کے نکات کو فعّال بنانے میں وقت درکار ہو گا تا کہ اتفاق رائے کی صورت میں اس پر عمل درامد ہو سکے۔