.

رہائی پانے والے فلسطینی اسیر کا معاملہ ، حماس کی العربیہ نیوز چینل پر نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں آزادی پانے والے فلسطینی اسیر منصور الشحاتیت کے معاملے میں "العربیہ" نیوز چینل پر تنقید کی گئی ہے۔

قابض اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں دورا قصبے سے تعلق رکھنے والے منصور الشحاتیت کو 17 برس بعد رہا کر دیا۔

الشحاتیت کو گرفتاری کے دوران طویل عرصے تک شدید تشدد اور قید تنہائی کا سامنا رہا۔ اس کے سبب اب وہ سنگین نفسیاتی اور اعصابی مسائل سے دوچار ہے۔ الشحاتیت کی یادداشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی والدہ اور عزیز و اقارب کی ایک بڑی تعداد کو نہیں پہچان سکا۔

ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو یہ انکشاف کیا تھا کہ الشحاتیت کو جیل میں حماس تنظیم کے بعض عناصر قیدیوں کی جانب سے شدید مار پیٹ کا نشانہ بننا پڑا۔ اس کی وجہ الشحاتیت اور یحیی السنوار کے درمیان تنظیمی اختلاف تھا۔ السنوار غزہ میں حماس کا حالیہ ذمے دار اور سابق اسیر ہے۔ وہ جیل میں الشحاتیت کے ساتھ تھا۔

الشحاتیت کا السنوار کے ساتھ اختلاف 2009ء میں شروع ہوا تھا۔ بعد ازاں اس اختلاف نے تشدد کی صورت اختیار کر لی۔

منصور الشحاتیت کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اس طویل عرصے کی قید کے دوران میں نفسیاتی مریض بن گیا۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتنے اور نظر انداز کیے جانے کے سبب اس کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے آزادی پانے والے اسیر منصور الشحاتیت کے علاج کے سلسلے میں کی گئی اپیل منظور کر لی۔ انہوں نے وزارت صحت کو ہدایت جاری کی ہے کہ الشحاتیت کو فوری طور پر مطلوب علاج فراہم کیا جائے.