.

یونان ہمارے خلاف دہشت گرد عناصر کو سپورٹ کر رہا ہے: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایوان صدارت میں محکمہ رابطہ کے سربراہ فخر الدین الطون کا کہنا ہے کہ یونان دہشت گرد تنظیموں جن میں کردستان ورکرز پارٹی PKK شامل ہے ،،، انہیں ٹھکانا اور معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ہفتے کے روز اپنی ٹویٹ میں الطون نے واضح کیا کہ ایسے دہشت گرد ہیں جو یونان میں پناہ گزینوں کے نام پر موجود کیمپ میں روپوش ہیں۔ یہ لوگ ترکی کے خلاف خود کش کارروائیوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ یونان نے حقیقی پناہ گزینوں کو بحر ایجہ میں مرنے کے لیے چھوڑا ہوا ہے۔

الطون کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ یونان کا تحفظ اور مامونیت ختم کی جائے۔

ترک عہدے دار نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک وڈیو بھی منسلک کی ہے۔ وڈیو کا دورانیہ 3 منٹ ہے۔ اس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ترکی کی کوششوں کو واضح کیا گیا ہے۔

وڈیو کلپ میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بعض ممالک ان دہشت گرد جماعتوں کی مدد کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ترکی ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔

وڈیو میں انقرہ کی جانب سے نیٹو اتحاد کے رکن ممالک سے کی گئی اپیل کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اپیل میں پڑوسی ملک یونان سمیت رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ترکی کی جانب سے جاری تمام کوششوں کو سپورٹ کریں۔

چند روز قبل یونان کی فوج کے چیف آف اسٹاف قسطنطینوس فلورس نے کہا تھا کہ ترکی کی اشتعال انگیز حرکتوں سے خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو رہا ہے۔ یہ بیان ترکی کے دو بحری جہازوں کی جانب سے مہاجرین (غیر قانونی) کی کشتیوں کو زبردستی یونان کے علاقائی پانی میں دھکیل دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

اسی طرح کچھ عرصہ قبل یونان کی وزارت ہجرت نے الزام عائد کیا تھا کہ ترکی بحر ایجہ میں جارحیت کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں ترکی خطرناک نوعیت کی مشقیں انجام دے رہا ہے اور مہاجرین کو اس بات پر حوصلہ دے رہا ہے کہ وہ یونان کا رخ کریں۔