.

اماراتی کمپنی مصدرکے زیر قیادت کنسورشیم سعودی شہر جدہ میں سولرپاورپلانٹ تعمیرکرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی کمپنی مصدر کے زیرقیادت کنسورشیم اور ای ڈی ایف ری نیوایبلز(قابل تجدید)اور سعودی عرب کی نسمہ کمپنی نے ساحلی شہر جدہ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے ایک مشترکہ منصوبہ پر تعمیراتی کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق اس فوٹو وولٹیک (پی وی) سولرپاور پلانٹ سے 300میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور یہ منصوبہ قریباً دو سال میں مکمل ہوگا۔

اس نے مزید بتایا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت توانائی کے قابل تجدید توانائی پراجیکٹ ڈویلپمنٹ آفس (ریپڈکو) نے اس کنسورشیم کو 300 میگاواٹ جدہ پراجیکٹ کا ٹھیکا دیا ہے۔اس نے فی میگاواٹ گھنٹا کے حساب سے سب سے زیادہ 60۰9042سعوی ریال (16۰24امریکی ڈالر) کی بولی دی تھی۔

مصدر کی قیادت میں کنسورشیم اس پلانٹ کا ڈیزائن تیار کرے گا،اس کی تعمیر کے لیے مالی وسائل مہیّا کرے گا اور اس کو چلائے گا۔یہ پلانٹ جدہ شہر سے 50 کلومیٹر شمال مشرق میں تیسرے جدہ صنعتی شہر میں واقع ہوگا۔یہ پلانٹ 2022ء میں پیداوار شروع کردے گا۔

وام کے مطابق جدہ سولر پلانٹ پی وی مارکیٹ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائے گا۔اس کی بدولت اس کے پینل پورا دن سورج کی حرکت کے ساتھ ساتھ توانائی اخذ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے اور بجلی پیدا کریں گے۔

واضح رہے کہ اے ڈی ایف ری نیوایبلز کی قیادت میں ایک کنسورشیم مصدر کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے علاقے دومۃ الجندل میں ہوا سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پربھی کام کررہا ہے۔سعودی عرب کا ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا یہ پہلا اور مشرقِ اوسط میں یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔یہ پلانٹ 2022ء کے آخر میں چالو حالت میں ہوگا اور اس سے کاربن فری بجلی پیدا ہوگی۔