.

بائیڈن انتظامیہ اوباما کے جوہری معاہدے کے بجائے ٹرمپ کی پابندیوں پرعمل پیرا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں پر عمل پیرا اور ان پابندیوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

سعید خطیب زادہ نے ان خیالات کا اظہار امریکی ٹی وی نیٹ ورک'سی این این' کے نامہ نگار کریسٹین امان پور کو دیے گیے ایک انٹرویو میں کیا۔ خطیب زادہ نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دوسری طرف ویانا میں فرانس، برطانیہ، جرمنی، چینی اور روس پر مشتمل گروپ پانچ ایران کے ساتھ اس کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہا ہے۔

اگرچہ ویانا میں جاری مذاکرات میں امریکی عہدیدار شرکت نہیں کررہے ہیں تاہم ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی رابرٹ مالے ایک وفد کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔ ایرانی وازارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ویانا میں ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ ایران کو امریکا کے ساتھ بات چیت کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔

انہوں‌ نے موجودہ امریکی انتظامیہ پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر عاید کی گئی پابندیوں کو آگے بڑھانے کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کو براک اوباما کے دور میں طے پائے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی فکر نہیں بلکہ بائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 'سی این این' کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ویانا میں جاری مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ گروپ 4+1 نے مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ویانا مذاکرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیش رفت ممکن ہے۔ اس حوالے سے امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 پرپابندی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ جوبائیڈن کی ٹیم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو باراک اوباما کے ایران کے ساتھ طے کیے جوہری معاہدے سے زیادہ ٹرمپ کی ایران پر عاید کی گئی پابندیوں‌پرعمل پیرا ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی وجہ سے باراک اوباما کے دور میں طے پایا جوہری معاہدے خطرے سے دوچار ہوا۔

یرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا تہران جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے شفافیت کا مظاہرہ کب کرے گا تو وہ اس کا جواب دینے کے بجائے بات کو گول کرگئے.