.
ایران

امریکا کی نطنز حملے سے لا تعلقی ، تہران کے لیے اسرائیلی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں نطنز کی جوہری تنصیب پر حملے کی تفصیلات ابھی تک مبہم اور غیر واضح ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کے سربراہ افیف کوخافی کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیل کو چوکنا کر دیا ہے۔ یہ بات کوخافی نے اتوار کی شب بتائی۔

ایسے میں جب کہ اسرائیل نے نطنز پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے یا اس میں ملوث ہونے کی تردید کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ،،، امریکا نے حملے میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کی ہے۔

پیر کے روز ایک امریکی ذمے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے "واشنگٹن پوسٹ" اخبار کو بتایا کہ ایرانی تنصیب پر دھماکے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ افیف کوخافی نے اعلان کیا تھا کہ ان کی افواج مکمل طور پر چوکنی ہے۔ وہ کسی بھی وقت حملہ کرنے کے حوالے سے بہترین قدرت اور تیاری رکھتی ہے۔ کوخافی کے مطابق "مشرق وسطی میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں دشمنوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں۔ ایک ماہ بعد ہم بہت بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کریں گے۔ اس جیسی مشقیں اس سے قبل کبھی نہیں ہوئیں۔ اس دوران میں ہم مختلف منصوبوں کے حوالے سے تربیت لیں گے۔ ان میں لڑائی کے طریقے اور مجموعی عسکری صلاحتیں شامل ہیں"۔

کوخافی نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت اس تربیتی عمل کو حقیقی کارروائی میں تبدیل کر سکتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع اور ان کے اسرائیلی ہم منصب (رائٹرز)
امریکی وزیر دفاع اور ان کے اسرائیلی ہم منصب (رائٹرز)

یاد رہے کہ اتوار کی صبح نطنز میں ہونے والا حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی وزیر دفاع اسرائیل کے دورے پر تھے۔

گذشتہ روز اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے ایران کے معاملے پر امریکا کے ساتھ تعاون کا عزم کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے کسی بھی نئے جوہری معاہدے میں اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ کا خیال رکھا جائے گا۔ اس موقع پر امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو یقین دہانی کرائی کہ واشنگٹن دونوں ملکوں کے درمیان اتحاد کو علاقائی امن کے لیے جوہری حیثیت دیتا ہے۔

یاد رہے کہ کئی اسرائیلی ذمے داران آخری آپشن کے طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا سہارا لینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ان کے نزدیک سفارتی کاری بند گلی میں پہنچ گئی ہے۔