.

یورپی یونین کی ایران کے 8 اعلیٰ کمانڈروں پرمظاہرین مخالف کریک ڈاؤن پرپابندیاں عاید

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی اور باسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی پابندیوں کی زد میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب ، باسیج ملیشیا اور پولیس کے آٹھ کمانڈروں اور تین جیلوں پر نومبر 2019ء میں مظاہرین کے خلاف خونین کریک ڈاؤن پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی عہدے دار اب مغربی ممالک میں سفر نہیں کرسکیں گے اور ان کے یورپی ممالک میں موجود اثاثے منجمد کرلیے جائیں گے۔2013ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکام اور اداروں پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں یورپی یونین نے پابندیاں عاید کی ہیں۔

تنظیم نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’باسیج تنظیم نے 2019ء میں ایران میں مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا۔اس کے نتیجے میں ملک بھر میں بہت سے شہروں میں غیرمسلح مظاہرین اور عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اوروہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔‘‘

یورپی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کی طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجرجنرل حسین سلامی اور باسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی شامل ہیں۔ایرانی حکومت سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت اس ملیشیا ہی کو نظام مخالف احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

یادرہے کہ ایران میں ابترمعاشی حالات اور مہنگائی کے خلاف 15 نومبر 2019ء کو مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور یہ کوئی دو ہفتے تک جاری رہے تھے۔ایرانی سکیورٹی فورسز نے اس احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے نتیجے میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم ایرانی حکام نے ہلاکتوں کی اس تعداد کو من گھڑت قرار دیا تھا جبکہ اقوام متحدہ نے 304 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

واضح رہے کہ 9 مارچ کواقوام متحدہ کے خصوصی نمایندہ جاوید رحمٰن نے ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا۔

انھوں نے تشدد کے واقعات میں ملوّث اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرنے اورانھیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہ کرنے پرایران پرکڑی نکتہ چینی کی تھی۔دوسری جانب ایران ماضی میں متعدد مرتبہ مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسترد کرچکا ہے۔