.

امریکا اور اسرائیل کی قومی سلامتی کی قیادت کا ایران کے حوالے سے اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اسرائیل کی قومی سلامتی سے متعلق سینئر عہدے داران کے درمیان تہران کے حوالے سے تزویراتی بات چیت کا دوسرا دور آج منگل کے روز منعقد ہو گا۔ ایکسیوس ویب سائٹ کے مطابق یہ بات تین اسرائیلی ذمے داران نے بتائی۔

بات چیت کا یہ دور ایران میں نطنز کی تنصیب میں دھماکے کے دو روز بعد ہو رہا ہے۔ کارروائی کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایک روز بعد ویانا میں بالواسطہ طور پر جوہری بات چیت کا دوبارہ آغاز ہو گا۔ اس کا مقصد 2015ء میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے میں امریکا کی دوبارہ واپسی ہے۔

تزویراتی مکالمے کی قیادت امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون اور ان کے اسرائیلی ہم منصب مائر بن شبات کر رہے ہیں۔ بات چیت میں قومی سلامتی اور انٹیلی جنس کی مختلف ایجنسیوں کے ذمے داران بھی شرکت کریں گے۔ بات چیت کا انعقاد وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہو گا۔

ایرانی جوہری پلانٹ نطنز
ایرانی جوہری پلانٹ نطنز

گذشتہ ماہ ہونے والے بات چیت کے پہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انٹیلی جنس معلومات پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔

اسرائیلی ذمے داران نے توقع ظاہر کی ہے کہ دوسرے دور میں توجہ شام، لبنان، عراق اور یمن میں ایران کی علاقائی سرگرمیوں پر مرکوز ہو گی۔ اس دوران میں ویانا بات چیت کا زیر بحث آنا بھی متوقع ہے۔ علاوہ ازیں بحر احمر اور خلیج عربی میں ایرانی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حالیہ حملے بھی زیر بحث آئیں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع کا استقبال کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جوہری بات چیت کے حوالے سے اندیشوں کا اظہار بڑھتا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔

انہوں نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اسرائیل کسی بھی امریکی ایرانی سمجھوتے کا پابند ہر گز نہیں ہو گا۔ نیتن یاہو نے عندیہ دیا تھا کہ ویانا بات چیت اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے سے نہیں روکے گی۔