.

ایران کا بدھ سے یورینیم کو 60 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کرنے کا اعلان 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بدھ سے یورینیم کو 60 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا ہے کہ ’’ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو بدھ سے یورینیم کو 60 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کرنے کا عمل شروع کرنے کے بارے میں مطلع کردیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے یہ اعلان ویانا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے پہلے سے طے شدہ مذاکرات سے صرف ایک روز قبل کیا ہے۔ان مذاکرات میں 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔

ایران نے اسرائیل پر گذشتہ اتوار کو نطنز میں واقع اپنی جوہری تنصیب پر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ایرانی حکام نے اس واقعہ کو ’’جوہری دہشت گردی‘‘ قراردیا ہے اور اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیل نے ابھی تک اس حملے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے فروری میں کہا تھا کہ اگر ملک کو ضرورت پیش آئی تو یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے۔

فروری ہی میں ایران نے کہا تھا کہ وہ 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا چاہتا ہے جبکہ اس وقت وہ 4۰5 فی صد تک یورینیم کوافزودہ کررہا تھا۔

اس جوہری سمجھوتے کے تحت ایران یورینیم کو صرف 3۰67 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے۔یہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار90 فی صد افزودہ یورینیم سے کہیں کم سطح ہے۔ایران نے دسمبر2020ء میں قانون سازی کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے اضافی اور جدیدسینٹری فیوجز مشینیں نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آئی اے ای اے) نے دوماہ قبل اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھاکہ ’’ایران نے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اوراس نے اپنے ایک زیرزمین پلانٹ میں جدید سینٹری فیوجز مشینوں پر بڑے پیمانے پر یورینیم کی افزودگی شروع کررکھی ہے۔‘‘