.

شام کی بحرانی صورت حال کو نظرانداز کرکے دنیا بہت بڑی غلطی کر رہی ہے: امریکی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی نے جنگ زدہ ملک کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں بحرانی صورت حال کو نظرانداز کرکے دنیا بہت بڑی غلطی کر رہی ہے۔

امریکی ایلچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف امریکا نے متعدد بار شام کی موجودہ بحرانی صورت حال پر آواز اٹھائی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ نے انسانیت کو تباہی کے دھانے پرپہنچا دیا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ شام میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سوموار کے روز العربیہ اور اس کے برادر ٹی وی چینل الحدث کو دیے گئےخصوصی انٹرویو میں شام کے لیے امریکی ایلچی نے کہا کہ شام کے بحران کا جلد کا جلد از جلد حل نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاسی تنازع کے حل سے بحران ختم ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف جیمز جیفری نے وضاحت کی کہ شام ، میں روس ، ترکی ، امریکا اور اسرائیل میں 5 ممالک مداخلت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے، چین کے ساتھ جاری بحران اور کرونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے بارے میں ایک ایسی جامع پالیسی اپنانی چاہیئے جو اسے خطے میں مداخلت کو روکنے اور یمن ، شام ، لبنان اور عراق میں تہران کی ملیشیاؤں کی موجودگی کو محدود کرنے کے لیے ضمانت فراہم کرے۔

ترکی کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ اس نے بار واشنگٹن کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کا شام میں ہمیشہ کے لیے قیام کا ارادہ نہیں ہے اور اس نے جنگ کے مستقل حل کے حصول کے بعد شام سے واپسی کے لیے اپنی رضامندی کا اعلان کیا ہے۔

جیمز جیفری کا کہنا تھا کہ شام میں اسد رجیم لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرنے کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے شام پر عائد پابندیوں سے دو مطلوبہ اہداف کا بھی انکشاف کیا اور کہا کہ پہلا مقصد ہلاکتوں میں ملوث افراد کو ذمہ دار ٹھہرانا اور دوسرا شامی حکومت کو مالی فائدہ اٹھانے سے روکنا۔