.

ایران پُرامن مقاصد کے لیے تو یورینیم افزودہ نہیں کررہا: سعودی عرب 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے ضمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ’’ایران نے یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا اعلان کیا ہے،اس کی بنا پر یہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔‘‘

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) نے بدھ کو وزارت خارجہ کا ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں ممالکت کی جانب سے ایران پر زوردیا گیا ہے کہ ’’وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے گریز کرے اور ایسے اقدامات نہیں کرے جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام ہی داؤ پر لگ جائیں۔ایران اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال سے متعلق مذاکرات کرے۔وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے تحت اپنے پروگرام کو اس انداز میں چلائے کہ اس سے خطے اور دنیا بھر میں سلامتی اور استحکام کے مقاصد کو حاصل کیا جاسکے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بھی پھیلنے سے روکا جاسکے۔‘‘

ایران نے آج سے یورینیم کو 60 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا تھا کہ ’’ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو بدھ سے یورینیم کو 60 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کرنے کا عمل شروع کرنے کے بارے میں مطلع کردیا گیا ہے۔‘‘

ایران کے آئی اے ای اے میں تعینات سفیرکاظم غریب آبادی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ترمیمی عمل کا آغاز کردیا گیا ہے اور ہم آیندہ ہفتے نطنز میں واقع سینٹری فیوجز سے پیداوار میں اضافے کی توقع کررہے ہیں۔‘‘

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ ایک ایسے طویل المیعاد سمجھوتے سے اتفاق کرے جس سے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور کنٹرول کو مضبوط بنایا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ایران جوہری بم ہتھیار حاصل کرسکے اور نہ اس کے لیے درکار صلاحیتیں پیدا کرسکے۔اس ضمن میں خطے کے ممالک کی ایران کی کشیدگی کو مہمیز دینے اور علاقائی امن وسلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اقدامات سے متعلق تشویش کو بھی دور کیا جائے۔‘‘