.

کویت کی اعلیٰ عدالت کا سابق وزیراعظم شیخ جابر کو حراست میں لینے کا حکم 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی وزارتی عدالت نے سابق وزیراعظم اور حکمراں خاندان کے رکن شیخ جابرالمبارک الصباح کو ٹرائل سے قبل حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔ان کے خلاف فوجی فنڈز کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

کویت کے دو اخبارات الرائے اور الجریدہ نے منگل کو یہ اطلاع دی ہے کہ شیخ جابر اور سابق وزیر دفاع اور وزیر داخلہ شیخ خالدالجراح الصباح نے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

روزنامہ الجریدہ اور القبس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے شیخ خالد کی رہائی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ وہ بھی کویت کے حکمراں خاندان کے رکن ہیں۔

ان تینوں اخبارات کا کہنا ہے کہ عدالت نے اس کیس سے متعلق معلومات کو شائع کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔اس نے یہ فیصلہ دفاعی ٹیم کی درخواست پر کیا ہے۔اب عدالت نے اس مقدمے کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

کویتی حکومت کے ترجمان نے فوری طور پر عدالت کے حکم پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔شیخ جابر2019ء میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔وہ 2011ء سے اس منصب پر فائز چلے آرہے تھے۔تب ارکان نے وزیرداخلہ شیخ خالد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی اور وہ پارلیمان میں اس پر رائے شماری چاہتے تھے۔

وزیراعظم جابر کی حکومت کے مستعفی ہونے کے دوروز بعد اس وقت کے وزیردفاع شیخ ناصر صباح الاحمد نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں کہا تھا کہ یہ معاملہ ان کے قلم دان سنبھالنے سے پہلے کا ہے مگر کابینہ نے فوجی فنڈز میں 24 کروڑ دینار (79کروڑ ڈالر) کے گھپلوں کے اس مسئلہ کو نمٹانے سے پہلے ہی استعفا دے دیا تھا۔

شیخ ناصر تب علیل تھے اور وہ گذشتہ سال دسمبر میں وفات پا گئے تھے۔ان سے دوماہ پہلے ان کے والد کویت کے سابق امیرشیخ صباح الاحمد الصباح بھی طویل علالت کے بعد چل بسے تھے۔

2019ء میں حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ صباح نے شیخ جابر کو دوبارہ وزیراعظم نامزد کیا تھا اور انھیں نئی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے اپنے خلاف میڈیا میں مہم کے بعد یہ پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

واضح رہے کہ حکمراں خاندان کی شخصیات پر کرپشن کے الزامات کے خلاف کویت شہر میں پارلیمان کے باہر مظاہرے ہوئے تھے۔کویت کے موجودہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔