.

روس کو "نہرِ استنبول" منصوبے پر تحفظات کیوں ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اعلان کردہ "نہرِ استنبول" Istanbul Canal کے منصوبے کے حوالے سے اختلافات ملک کے اندر مقامی فریقوں تک محدود رہتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ روس نے چند روز قبل اس ضخیم منصوبے کے حوالے سے اپنے موقف کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا تھا۔ ترکی میں اپوزیشن اس ماحولیاتی نقصانات اور بھاری لاگت کے سبب اس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہے۔

روسی سیاسی تجزیہ کار اکبال درہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "روس کو اندیشہ ہے کہ نہرِ استنبول انقرہ کو مونٹرو بین الاقوامی سمجھوتے سے علاحدہ رہنے کا حق فراہم کر دے گا"۔ یہ سمجھوتا بوسفور اور دردنیل کی آبناؤں اور اسی طرح بحیرہ اسود میں جہاز رانی کی حرکت کو منظم کرتا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق " آبی راستوں کا معاملہ ماسکو اور انقرہ کے بیچ طویل تنازعات بھڑکانے کا سبب رہا ہے۔ تاہم مونٹرو سمجھوتے کی بدولت دونوں ممالک تقریبا 100 برس سے ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں نبرد آزما نہیں ہوئے"۔

اکبال درہ نے زور دے کر کہا کہ "ماسکو مونٹرو سمجھوتے کو مضبوطی کے ساتھ تھامے ہوئے کیوں کہ یہ بحیرہ اسود میں نیٹو اتحاد کی فورسز کے وجود کو چیلنج کرتا ہے۔ اگر ترکی اس مونٹرو سمجھوتے سے علاحدہ ہوا تو اس کے نتیجے میں یوکرائن اور جورجیا کا نیٹو اتحاد میں داخلے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بحیرہ اسود محض نیٹو اتحاد کے زیر انتظام رہ جائے گا۔ ماسکو کے نزدیک یہ صورت حال ناقابل قبول ہے"۔

ماسکو میں کرملن ہاؤس نے جمعے کے روز جاری بیان میں باور کرایا تھا کہ "علاقائی امن واستحکام کو یقینی بنانے کے لیے 1936ء کے مونٹرو سمجھوتے کی شقوں کے مطابق بحیرہ اسود کی آبنائے کے لیے قائم نظام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے"۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن آ ئندہ موسم گرما میں نہرِ استنبول کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

کرملن ہاؤس کا مذکورہ بیان روسی صدر کی اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ دیر بعد جاری ہوا۔ گفتگو میں "نہر استنبول" منصوبے کے حوالے سے اختلافات زیر بحث آئے جو مونٹرو سمجھوتے کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔