.

حوثی ملیشیا یمن میں اساتذہ کے خلاف سنگین جرائم کی مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں اساتذہ کی نمائندہ تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ‌میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چھ سال کے دوران حوثی ملیشیا کے حملوں اور 2014ء کو آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اب تک 3500 اساتذہ جاں‌ بحق یا زخمی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں 1579 اور انتظامی عملے کے کارکن مارے گئے۔ ان میں اسکولوں کے 81 پرنسپلز، 1497 اساتذہ جاں‌بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی عسکری کارروائیوں میں 2642 اساتذہ زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے اساتذہ کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ حوثیوں نے 10 اساتذہ کو پھانسی دے کر شہید کیا۔ ان میں دارالحکومت صنعا میں اساتذہ یونین کے سربراہ سعد النزویلی اور اسکول کے پرنسپل خالد النھاری بھی شامل ہیں۔ حوثیوں نے 8 طلبا کو بھی دوران حراست موت کے گھاٹ اتار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے 621 اساتذہ کو جبری طور پر اغوا کیا جب کہ 14 اساتذہ کو دوران حراست غیرانسانی تشدد کرکے موت کی نیند سلا دیا گیا۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں 20 ہزار اساتذہ بے گھر ہوئے یا انہیں جبری طور پر گھر بار چھوڑنے پرمجبور کیا گیا۔
دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ حوثیوں‌نے اساتذہ کا معاشی قتل عام بھی جاری رکھا۔ ستمبر 2017ء کے بعد حوثیوں نے دو لاکھ 90 ہزار اساتذہ اور تعلیمی عملے کے ملازمین کو ان کی تنخواہوں سے محروم کیا جب کہ بیشتر ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فی صد کٹوتیاں کی گئیں۔

حوثیوں کی طرف سے اساتذہ پر غربت مسلط کرنے کے نتیجے میں کئی اساتذہ خود کشی پر مجبور ہوئے۔