.

خاتون ریفری کی تصویر نے ایرانی حکام کو تنگ کر دیا ، فٹبال میچ کے مناظر 100 بار سینسر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ ایرانی حکام کو فٹبال کے عالمی میدانوں میں بھی کھیلوں کے لباس میں ملبوس خواتین میچ ریفری کا وجود قبول نہیں ہے۔ ایران میں کئی برسوں تک کھیلوں کے میدانوں میں خواتین کے داخلے پر پابندی رہی۔ اب بھی کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں ایرانی خواتین کی شرکت پر کئی قیود عائد ہیں۔

اس حوالے سے تازہ ترین واقعے میں ایرانی حکام انگلش پریمیر لیگ کے ایک میچ میں نائب ریفری کے فرائض انجام دینے والی خاتون سیان میسی ایلس کے لباس سے تنگ ہو گئے۔ سیان نے میچ کے دوران مروجہ لباس (چھوٹے حجم کا شارٹ اور کھیلوں کی قمیض) ہی پہن رکھا تھا۔

اس صورت حال کے سبب ایران کا سرکاری ٹیلی وژن میچ کی براہ راست نشریات کو 100 سے زیادہ مرتبہ منقطع کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس کا مقصد خاتون معاون ریفری کو ٹی وی اسکرین پر نظر آنے سے روکنا تھا !

ایرانی سرکاری ٹی وی ہر مرتبہ میچ کی نشریات منقطع کرنے پر اسکرین پر ٹوٹنھم ہوٹسپیر اسٹیڈیم اور اس کے پس منظر میں واقع سڑکوں کی نارمل تصاویر لگاتا رہا۔

اس اقدام نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ علاوہ ازیں ایران میں شہریوں کے حقوق کے علم بردار گروپوں نے متعلقہ ایرانی حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق ایران میں صنفی امتیاز کے قوانین کے خلاف مزاحم گروپ My Stealthy Freedom کا کہنا ہے کہ " ٹیلی وژن کے نگراں حکام میچ میں گھٹنوں سے اوپر شارٹ پہنے ہوئے ریفریوں سے نالاں ہو گئے۔ لہذا ان کو اس کے سوا کوئی حل نہ ملا کہ وہ میدان میں میچ کے مناظر سے ہٹ کر اسٹیڈیم کے باہر کی اور سڑکوں کے مناظر دکھانا شروع کر دیں"۔

گروپ نے مزید کہا کہ "سینسرشِپ تو اسلامی جمہوریہ ایران کے DNA میں شامل ہے ... یہ جابرانہ نظام کا نظریہ ہے"۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے ازراہ مذاق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "میں امید کرتا ہوں کہ ناظرین اس جغرافیائی نمائش سے لطف اندوز ہوئے ہوں گے"۔