.
امریکا

افغانستان سے انخلا کے اعلان پرپینٹاگان کی راہ داریوں میں کیا رد عمل سامنے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے فیصلے کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو اس فیصلے کے منتظر سابق فوجی شخصیات کی طرف سے اس پر اعتراض کررہے تھے۔
افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سابق کمانڈر ڈیوڈ پیٹریاس ان فوجی افسران میں شامل ہیں جو افغانستان سے پوری امریکی فوج کی واپسی کے مخالف ہیں۔ فورسٹار جنرل نے اس پر برہمی کا اظہار کیا کہ یہ مشن ابھی تک اپنے اختتام کو نہیں پہنچا جس کے نتیجے میں طالبان کے خلاف واضح امریکی فتح حاصل ہو سکتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے افغانستان کا ایک نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں‌ سرخ رنگوں سے ظاہرکیے گئے مقامات سے پتا چلتا ہےکہ ملک کے دوتہائی حصے پر طالبان کا فیلڈ کنٹرول ہے جبکہ افغان حکومت اور اتحادی افواج افغانستان کے صرف ایک تہائی علاقے پر ہے جو وہاں امریکی اور نیٹو فوج کی ناکامی کا بہترین اظہار ہے۔

پینٹاگان کے راہداریوں میں

وائٹ ہائوس کی طرف سے افغانستان سے فوج کے انخلا کے اعلان سے متعلق خبر لیک ہونے اور صدر جوبائیڈن کے اعلان تک پینٹاگان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ جب وائٹ ہائوس نے یہ راز لیک کردیا تو صحافیوں کی بڑی تعداد نے پینٹاگان کا رخ کیا تاکہ امریکی محکمہ دفاع کا موقف معلوم کیا جا سکے۔ العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں‌کے نامہ نگار بھی پینٹاگان پہنچے تاکہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے اعلان کے بارے میں جان کاری حاصل کی جاسکے۔

افغانستان میں خدمات انجام دینے والے ایک افسر سے اس کے جذبات کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے صرف اتنا کہا ، "مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا یہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ اس کے بارے میں پھر کسی روز بات کرلیں۔ افغانیوں کے لیےان کی چاہت سے بڑھ کر کچھ نہیں‌کیا جاسکتا۔

گذشتہ عشرے کے آغاز میں امریکی فوجی افسر جس نے افغانستان میں کام کیا نے کہا وہ اور باقی امریکی اپنے مشن پر عمل درآمد کے لیے بڑے جوش و جذبے سے کام کر رہے تھے جس میں طالبان کا مقابلہ کرنا اور القاعدہ کی واپسی کو روکنا شامل ہے۔ ایک نئے ملک کی تعمیر لیکن آپ افغانیوں کے لیے ان کی منشا سے زیادہ کام نہیں کرسکتے ہیں۔

اس امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کا قیام کئی حوالوں سے ضروری ہے۔ لازمی نہیں کہ وہ وہاں اپنا حکم چلائیں یا عسکری کارروائیاں کریں۔ ایک نوزائیدہ جمہوری ریاست کو مستحکم کرنے کے لیے بھی امریکی فوج کا افغانستان میں قیام ضروری ہے۔

پھر اس نے ایک بار پھر اسکرین پر نگاہ ڈالی اور کہا کہ براہ کرم چیزوں کو برباد نہ کریں! یہ میرا خوف ہے! ہمیں برسوں پہلے چھوڑ دینا چاہیے تھا لیکن یہ مشن پورا نہیں ہوا۔

پھر انہوں نے واضح کیا کہ انھوں نے امریکی صدر کے فوج کی مکمل واپسی کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن اس نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم چیزوں کو برباد نہ کریں۔

امریکی انتظامیہ کے سینیر عہدیداروں نے وہی تصویر پینٹ نہیں کی بلکہ اس بات کی نشاندہی کی کہ انہوں نے تین لاکھ افغان فوجیوں کو تربیت دی ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں ایک بہت بڑا کام انجام پایا ہے۔ اس کے ثمرات آنے والے عرصے میں دیکھے جائیں گے۔
اب پہلا قدم نیٹو افواج کا انخلا ہے جن کی تعداد 9 ہزار اور 500 ہے ، جبکہ امریکا کے2،500 جرمنی کے 1،300 اور باقی نیٹو ممالک کے رکن فوجی شامل ہیں۔

امریکیوں نے طالبان تحریک کو سخت انتباہ جاری کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر انخلاء کے مرحلے کے دوران ان فورسز پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں‌گے۔

جہاں تک کے اگلے چیلینج کی بات ہے اس میں افغانستان کے زوال پذیر ہونے کے متعدد منظرنامے، طالبان کے قبضے اور دہشت گرد تنظیموں کی واپسی کے خدشات موجود ہیں۔