.

ایرانی فاطمیون ملیشیا کی شام میں خوراک کی آڑ میں شہریوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپ 'فاطمیون' ملیشیا کی ماہ صیام میں شام میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں فاطمیون ملیشیا معاشی زبوں حالی کے شکار شامی باشندوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے نئے حربے استعمال کرنا شروع کیا ہے اور شہریوں کو خوراک کے پیکٹوں پر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

افغان جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون ملیشیا نے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی شام کے علاقے المیادین میں افطار کچن مراکز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز میں شہریوں کو پکا پکایا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق آبزر ویٹری کے مطابق ایرانی ملیشیا فاطمیون کی طرف سے شامی شہریوں میں تقسیم کیے جانے والے راشن کے پیکٹوں پر قدس ملیشیا کے مقتول سربراہ قاسم سلیمانی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان پیکٹوں پر'اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے تحفہ' کے الفاظ درج ہوتے ہیں۔

ایرانی ملیشیا کی طرف سے شام کے مخلتف علاقوں میں خوراک کی تقسیم کا یہ ہتھکنڈہ ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جا رہا ہے جب دوسری طرف اسد رجیم کے زیرانتظام علاقوں میں غربت اور معاشی ابتری کا راج ہے اور لوگ فاطمیون ملیشیا جیسےگروپوں کے رحم وکرم پر آ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ 9 اپریل کو فاطمیون ملیشیا نے المیادین کے علاقے میں اپنی صفوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی بھی شروع کی جب کہ اس گروپ کے 52 افراد کو تربیت دینے کے بعد ان کی پاسنگ آوٹ کی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی آبزرویٹری کے مطابق دیر الزور کے علاقے میں فاطمیون ملیشیا نے اراضی اور جائیدایں خریدنا شروع کی ہیں تاکہ علاقے میں ایرانی ملیشیا کے اثرو نفوذ کو مزید بڑھایا جاسکے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ایرانی ملیشیاؤں میں بھرتی ہونے والے 15 ہزار جنگجو دیر الزور میں‌موجود ہیں۔ ان جنگجووں میں ایرانی، افغان اور پاکستانی بھی شامل ہیں۔