.

عالمی ادارہ صحت کا سعودی عرب کو کرونا سے موثر طریقے سے نمٹنے کا کریڈٹ

سعودی عرب سے کامیابی سے نمٹنے والے ممالک میں سر فہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک پریس بیان میں بتایا ہے کہ سعودی عرب نے کرونا وبا کے ابتدائی ایام میں وبا کے خطرات کے پیش نظر سائنسی طریقہ کار اختیار کیا اور آج بھی مملکت میں وبا سے نمٹنے کے لیے وہ اصول باقاعدگی سے اپنائے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے دیگر خلیجی ممالک دنیا کے دوسرے ملکوں‌کی نسبت کرونا وبا کے خلاف موثر طریقے سے کام کیا۔ سعودی عرب کا اختیار کردہ طریقہ کار وبا کی روک تھام کے لیے صحت اور سائنس کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ تھا جس کی بدولت مملکت میں کرونا کی وبا کو زیادہ پھیلنے کا موقع نہیں‌مل سکا۔ سعودی عرب نے وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کیں جو وبا کی روک تھام کے لیے ناگزیر تھیں اور ان کا تقاضا تھا۔

مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنظری نے کہا ہے کہ تنظیم میں عمل درآمد کی تشخیص کے نتائج کی بنیاد پر سعودی عرب نے بحران کے آغاز سے ہی ایک اچھا کام کیا ہے۔ ملک ، اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں داخل ہونے والے تمام مقامات پر موثر نگرانی کو مضبوط بنانا ، متاثرہ ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کی داخلے پر اسکریننگ کا اطلاق کرنا ، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو تربیت دینا ، قرنطین میں مریضوں کو الگ تھلگ رکھنا ، تصدیق شدہ مریضوں کو فوری طور پر دوسرے لوگوں‌سے الگ کرنا اور عوام کو وبا کے خطرات کے حوالے سے بریفنگ دینا جیسے اصول اپنا کر سعودی عرب نے کرونا کو شکست دی۔

انہوں نےمزید کہا کہ گذشتہ سال 'جی 20' کے ذریعے سعودی عرب نے وبا سے متعلق بین الاقوامی ردعمل کو مستحکم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ آج ویکسینوں کے سامنے آنے، ان کی تقسیم اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ویکسین لگانا سعودی حکومت کےقابل تحسین اقدامات ہیں جس کے باعث سعودی عرب وبا سے لڑنے اور کافی حد تک محفوظ رہنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پرآگیا ہے۔

آسٹرا زینیکا ویکسین کے محفوظ ہونے کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ "ڈبلیو ایچ او" کی عالمی سطح پر ویکسین سیفٹی سے متعلق مشاورتی کمیٹی نے حال ہی میں آسٹر زینیکا ویکسین کے بارے میں دستیاب معلومات کا جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی نے بتایا ہے کہ پلیٹلیٹس میں کمی کے ساتھ خون کے جمنے کے واقعات سے بھی تعلقات ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے آسٹرازنیکا ویکسین کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے تاہم اس ویکسین کے فوائد معمولی نقصانات سےکہیں زیادہ ہیں۔

امریکا اور برطانیہ میں استعمال ہونے والی ویکسینوں کے طریقہ استعمال میں فرق ہے۔ ایسی ویکسینیں ہیں جن کے لیے'ایم آر این اے' کا طریقہ کار اپنایا گیا اور دوسری ویکسینیوں کے لیے روایتی طریقہ اختیار کیا گیا۔ یعنی وائرس کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسینیں مردہ ہو یا کمزور وائرس کو ختم کرنے اور جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کہ کوویڈ ۔19 کے خلاف متعدد ویکسینوں کی موجودگی ایک بہت ہی مثبت چیز ہے۔ اس وقت کرونا وبا کی روک تھام کے لیے سیکڑوں کمپنیوں نے ویکسین تیار کرنا شروع کی ہے۔ ویکسین کو فطری انداز میں تیار کیا جا رہا ہے جن کے استعمال سے انسانی جسم پر کم سے کم منفی اور مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔