.

یمنی عہدیدار کا ملک میں‌ جاری جنگ میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے علاقے مآرب کے گورنر سلطان العرادہ نے کہا ہے کہ ایران عرب دنیا میں اپنے ایجنٹ پیدا کرنے کے ایک وسیع پروگرام پرعمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن میں‌جاری جنگ میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی لڑ رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سلطان العرادہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے جنگجووں نے رواں سال فروری میں مارب میں حملہ کیا۔ عالمی برادری کی طرف سے اس حملے پر سخت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا اور بین الاقوامی سطح پر اس حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

انہوں‌ نے بتایا کہ حزب اللہ کے جنگجووں‌ نے صنعا کے مشرق میں 120 کلو میٹر کی مسافت پر واقع مارب شہر پر قبضے کی کوشش کی تاکہ شہر پرقبضے کے بعد اس کی آڑ میں مذاکرات کیے جاسکیں۔

خیال رہے کہ یمنی فوج اور مزاحمتی ملیشیا نے مآرب میں حزب اللہ اور حوثی ملیشیا کے زیرقبضہ علاقے واپس لیے تھے۔ سرکاری فوج نے المشجح محاذ اور ھیلان میں مزید علاقے بھی حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرا لیے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق المشجح اور الکسارہ کے محاذوں پر گھمسان کی لڑائی ہوئی ہے جس میں حوثی ملیشیا اور اس کے حامی عسکریت پسندوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یمنی فوج کے ساھ ساتھ مآرب کے مختلف محاذوں پر عرب اتحادی فوج نے بھی فضائی حملے کرکے یمنی فوج کو شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی میں مدد فراہم کی ہے۔

عسکری ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کے ایام میں مآرب کے محاذ پر حوثی ملیشیا کے 60 جنگجو ہلاک ہو گئے۔