.

ویانامذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے،نامعقول مطالبات کو قبول نہیں کیا جائے گا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ویانا میں 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے بات چیت میں مشکلات کے باوجود پیش رفت ہورہی ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر’’نامعقول قسم‘‘ کے مطالبات کیے گئے یا وقت کا ضیاع ہوا تو ایران ان مذاکرات سے دستبردار ہوجائے گا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے مذاکرات کے موجودہ رجحان کا یہ جائزہ پیش کیا ہے ’’یہ مشکلات اور چیلنجزکے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اس بات چیت کے دوران میں جب بھی نامعقول مطالبات کیے گئے،وقت کا ضیاع ہوا اور غیر عقلی سودے بازی کی کوشش کی گئی تو ایرانی وفد ویانا سے اٹھ آئے گا اور بات چیت کا سلسلہ منقطع کردے گا۔‘‘

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’’ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل ازوقت ہوگا یا یہ کہنا کہ ہم خوش امید ہے یا ناامید ہیں لیکن ہمارے خیال میں ہم درست ٹریک پر ہیں۔‘‘

ویانا مذاکرات میں شریک ایک یورپی سفارت کار نے بھی کہا ہے کہ ان میں پیش رفت ہورہی ہے اور یہ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

لیکن ایران کے سخت گیروں کے زیرنگرانی خبررساں ایجنسیوں نے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو عارضی طور پر ہٹانے پر غور کررہا ہے اور ان پابندیوں کو مستقل طور پر ختم نہیں کرے گا۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اسی سال نومبر میں اس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔ایران اب ان پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ صدر جو بائیڈن ایران سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ پہلے جوہری سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے۔

فارس نیوز ایجنسی نے اس بے نامی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے:’’امریکا کا ارادہ تمام پابندیاں مکمل طور پر ہٹانے کا نہیں۔وہ جوہری سمجھوتے میں واپسی کے لیے بعض پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ کسی بھی وقت ایران کے خلاف یہ پابندیاں عاید کرسکے۔‘‘

ویانا میں ان مذاکرات کے دوران ہی میں ایران نے نطنز میں واقع جوہری پاور پلانٹ میں یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے)نے بھی گذشتہ ہفتے کے روز اس کی تصدیق کی ہے۔

آئی اے ای اے نے ایک بیان میں کہا تھا:’’ایجنسی یہ تصدیق کرتی ہے کہ ایران نے نطنز میں (بالائی زمین واقع) پائلٹ فیول افزدوگی پلانٹ میں یواے 6 کی 60 فی صد افزودگی تک پیداوار شروع کردی ہے۔‘‘

یو ایف 6 یورینیم ہیکسافلورائیڈ ہے۔اس شکل میں یورینیم کو سینٹری فیوجزمیں افزودگی کے لیے داخل کیا جاتا ہے۔آئی اے ای اے نے ایران کی اس تازہ سرگرمی کے بارے میں ایک خفیہ رپورٹ ادارے کے تمام رکن ممالک کو بھیجی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’ایران کے ایجنسی کو فراہم کردہ اعلامیے کے مطابق یوایف 6 کی افزودگی کی سطح 55۰3 فی صد یو-235 ہے۔ایجنسی نے تیارشدہ یوایف6 کا ایک نمونہ آزادانہ تجزیے اور تصدیق کے لیے حاصل کیا ہے۔اس کا نتیجہ جائزے کا تمام کام مکمل ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔‘‘

ایران اس سے پہلے یورینیم کو 20 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کررہاتھا اور اس کی یہ سرگرمی بھی 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ وہ اس کی شرائط کے تحت یورینیم کو صرف 3۰67 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے۔