.

یمن ، شام اور عراق میں حزب اللہ کا کردار عدم استحکام کا سبب ہے : برطانوی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیروت میں برطانوی ناظم امور مارٹن لنگڈن کا کہنا ہے کہ "لبنان اپنی تاریخ کے ایک مشکل ترین بحران سے گزر رہا ہے۔ اس بحران کے اسباب پیچیدہ اور طویل المیعاد ہیں تاہم سنجیدہ اصلاحات اور گہری تبدیلی کا عمل ضروری ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں مارٹن نے عراق، شام اور یمن سمیت خطے میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے کردار پر تنقید کی۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کو علاقائی تنازعات میں جانب دار رہنا چاہیے۔

لبنانی عہدے داران پر پابندیوں کے امکان کے حوالے سے برطانوی ناظم امور کا کہنا تھا کہ "سیاسی اور اقتصادی بدعنوانی نے لبنان کے استحکام اور ترقی کو تباہ کر دیا۔ ان عوامل نے بہت سے لوگوں کا مستقبل چوری کر لیا ... ہم سب لوگ (لبنانی) سیاسی ذمے داران کے حوالے سے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے .. اب ہم یہ باور کرا رہے ہیں کہ برطانوی حکومت کا ان افراد کی کارستانیوں کو قبول نہ کرنے کا موقف واضح ہے۔ اب ہمارے پاس پابندیوں کا ایک نظام ہے جس کو ہم ان لوگوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں جو لبنانی ریاست کو لوٹ رہے ہیں یا پھر دیگر سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں"۔

مارٹن کے مطابق عالمی برادری کو لبنان میں مثبت تبدیلی کو سراہنا چاہیے تاہم اگر لبنان میں حقیقی تبدیلی آنا ہے تو سنجیدہ اصلاحات، شفافیت اور پوچھ گچھ ضروری امور رہیں گے۔

برطانوی ناظم امور نے مزید بتایا کہ "میں نے تمام لبنانی ذمے داران کے ساتھ کھل کر بات کی ہے۔ میں ملامت بازی کے کھیل میں دل چسپی نہیں رکھتا ہوں ، اس حوالے سے جتنا کچھ ہو گیا وہ کافی ہے۔ برطانیہ موجودہ صورت حال کے حوالے سے گہری تشویش محسوس کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں"۔

مارٹن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "یہ وقت سفارتی تقاریر کا نہیں ہے بلکہ اس وقت لبنان کے حقیقی دوستوں کو خطرے کی گھنٹی بجا دینی چاہیے اور اس ملک کو درپیش خطرات کے بارے میں سچائی اور صراحت کے ساتھ بات کرنا چاہیے۔ لبنان تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے اور وقت نکلا جا رہا ہے۔ جب تک بے عملی رہے گی ہمیں درپیش خطرات میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔ آخر کار لبنانیوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور وہ واقعتا چکا رہے ہیں"۔

مارٹن کے مطابق "برطانیہ نے خطے میں بالخصوص شام، عراق اور یمن میں عدم استحکام پیدا کرنے والے حزب اللہ ملیشیا کے کردار پر تنقید کی ہے۔ کیا یہ سرگرمیاں واقعتا لبنان کے قومی مفاد میں ہیں ؟ کیا لبنان کو خود کو دوسروں کے تنازعے میں بڑھ چڑھ کر پیش کرنا چاہیے بالخصوص جب کہ وہ خود کھوکھلا ہو رہا ہو؟ ... میرے نزدیک لبنان کو علاقائی تنازعات سے کنارہ کشی کی سیاست پر کاربند اور غیر جانب دار رہنے کی پہلے کسی بھی وقت سے زیادہ ضرورت ہے"۔

برطانوی ناظم امور نے واضح کیا کہ "لبنان میں سیاسی قیادت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ جب لبنان ان اقدامات کے لیے تیار ہو گا تو اس کی سیاسی قیادت دوستوں کے بازوؤں کو پھیلا اور کھلا ہوا دیکھے گی جو اس سفر میں لبنان کی سپورٹ کے لیے تیار ہوں گے"۔

اپنی گفتگو کے آخر میں مارٹن نے زور دے کر کہا کہ " تبدیلی اندر سے آنی چاہیے نہ کہ باہر سے مسلط کی جائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جن کے بھی لبنان کے حوالے سے حقیقی مفادات ہیں وہ سب مل کر کام کریں گے اور بے شک یہ انتہائی اہمیت کی حامل بات ہے۔ میں یہ وعدہ کر سکتا ہوں کہ اس لمحے کے آنے پر ہم لبنان کی خاطر وہاں موجود ہوں گے ،،، تاہم یہ عنقریب ہونا چاہیے"۔