.

سعودی عرب:جیلوں میں68 فی صد قیدیوں کوکووِڈ-19کی ویکسین لگا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اسٹیٹ سکیورٹی جیلوں میں بند قریباً 68 فی صد قیدیوں کو کووِڈ-19 کی ویکسین لگادی گئی ہے اور باقی قیدیوں کو بھی مرحلہ وار ویکسین کے دونوں انجیکشن لگائے جارہے ہیں۔

سعودی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ وزارتِ صحت کی ہدایات کی روشنی میں قیدیوں کوگروپوں کی شکل میں ویکسین لگائی جارہی ہےتاکہ انھیں اس مہلک وائرس سے ہر طرح سے محفوظ رکھا جاسکے۔

ان ذرائع کا کہناہے کہ کروناوائرس کی ویکسین لگوانا لازمی نہیں ہے لیکن قیدیوں کو اس کی تعلیم وترغیب دی گئی ہے اور خود انھیں جیلوں میں نیوز چینلزیا وزارت صحت کی آگہی مہم کے ذریعے ویکسین لگوانے کی افادیت سے آگاہ کیا گیا ہے۔اس کے بعد سے ویکسین لگوانے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن جو قیدی ویکسین نہیں لگوانا چاہتے، انھیں اس کے لیے مجبور کیا جائے گا اورنہ ان کے خلاف کوئی اقدام کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال کے اوائل میں کروناوائرس کی وبا پھیلنے کے فوری بعد ہی جیلوں کے مکین قیدیوں کواس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔اس مقصد کے لیے جیلوں کے داخلی دروازوں پر ملاقاتیوں کے لیے مختص کمروں میں حفاظتی احتیاطی تدابیراختیار کی گئی تھیں اور وہاں آنے والے ہر فرد کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جاتا رہا ہے۔

سعودی حکام نےجیلوں میں قیدیوں کے سوا دوسرے افراد کے داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔حتیٰ کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کا بھی داخلہ بند کردیا گیا تھا۔قیدیوں کی اپنے بیوی بچوں اورخاندانوں کے دوسرے افراد سے ملاقاتیں بھی معطل کردی گئی تھیں۔البتہ اب وہ تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔

جیل حکام نے وزارت صحت کے ساتھ مل کر جیلوں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سختی حفاظتی اقدامات کیے تھے اور کسی مشتبہ کیس کے سامنے آنے کی صورت میں فوری طور پرایک مخصوص وارڈ میں منتقل کیا جاتا رہا ہےتاکہ اس سے دوسرے قیدی متاثر نہ ہوں۔کووِڈ-19 کے مثبت ٹیسٹ کے حامل قیدیوں کی ایک خصوصی ٹیم نگرانی کرتی رہی ہے۔اس کے علاوہ وقفے وقفے سے پی سی آر ٹیسٹ کیے جاتے رہے ہیں تاکہ کسی نئے کیس کی تشخیص کی صورت میں بروقت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔