.

شاہ سلمان کے زیرِقیادت سعودی وفد کی ورچوئل لیڈرزموسمیاتی کانفرنس میں شرکت 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے زیر قیادت اعلیٰ سطح کا وفد امریکا کی میزبانی میں عالمی لیڈروں کی دوروزہ ورچوئل عالمی کانفرنس میں شریک ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن کی میزبانی میں اس کانفرنس میں دنیا کے چالیس سربراہان مملکت اور ریاست شرکت کررہے ہیں۔

امریکی صدرجوبائیڈن نے اس کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فی صد تک کمی کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اخراج کی سطح کو 2005ء تک لایا جائے گا۔

انھوں نے جمعرات کو اپنی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں دوروزہ ورچوئل موسمیاتی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پراس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’امریکا ایک مرتبہ پھر تحفظ ماحول کی مہم میں قائدانہ کردار ادا کرے گا اور وہ صرف ’’اخلاقی اوراقتصادی حاکمیت‘‘ ایسے ایشو ہی کی قیادت کے لیے انتظار نہیں کرے گا۔‘‘

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ’’شاہ سلمان کی اس کانفرنس میں بہ نفس نفیس شرکت مملکت کے عالمی ، مقامی اور علاقائی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بنیادی قائدانہ کردار کی توثیق کی مظہرہے۔یہ اس شعبہ میں مملکت کی کاوشوں کی بھی توسیع ہے۔ان میں سے ایک اہم کاوش کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی سبز اقدام اور مشرقِ اوسط سبز اقدام کے فریم ورک کے تحت اعلان کیا ہے۔‘‘

سعودی ولی عہد نے گذشتہ ماہ مملکت کے علاوہ مشرقِ اوسط بھر میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے ان دونوں اقدامات کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے اس موقع پرکہا تھا کہ’’دنیا میں تیل کے سب سے بڑے پیداکنندہ ملک کی حیثیت سے ہم موسمیاتی بحران کے خلاف جنگ میں اپنی ذمے داریوں سے مکمل طور پرآگاہ ہیں۔تیل اور گیس کے دور میں ہم نے توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام میں بنیادی کردارادا کیا ہے۔ہم آیندہ گرین دور میں بھی اپنا قائدانہ کردارادا کرتے رہیں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ’’سعودی عرب اور خطے کو بہت سے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ان میں بنجرپن خطے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سبب ہوا کی آلودگی کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی میں اوسطاً ڈیڑھ سال کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان کے اعلان کردہ سعودی سبزاقدام کے تحت ہریالی کو بڑھانے ،کاربن کے اخراج میں کمی ،آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے،اراضی کو بنجرپن کا شکار ہونے سے بچانے اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔