.

عائشہ قذافی کو یورپی یونین کی عاید کردہ پابندیوں سے چھٹکارا مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی ایک عدالت نے لیبیا کے مقتول مرد آہن کرنل مُعمر قذافی کی صاحبزادی عائشہ قذافی کا نام سنہ 2011 کو تیار کی جانے والی پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ عائشہ قذافی بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی کے لیے اب خطرہ نہیں رہی ہیں۔

لکسمبرگ میں قائم یورپی یونین کی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عائشہ قذافی برسوں سے لیبیا میں مُقیم نہیں ہے اور اس کا لیبیا کی سیاست اب کوئی کردار نہیں رہا ہے۔

کسی شخص یا کمپنی کو یورپی پابندیوں کی فہرست سے شامل کرنے یا ان کے خاتمے کا فیصلہ متفقہ طور پر یورپی کونسل کے ممبر ممالک کرتے ہیں۔

یورپی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ کونسل عائشہ قذافی کو لیبیا پر لاگو پابندیوں کی فہرست میں شامل رکھنے کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کے عدالت کے فیصلے کا بغور جائزہ لے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ کس طرح آگے بڑھا جائے۔

معزول لیبی صدر معمر قذافی
معزول لیبی صدر معمر قذافی

ترجمان نے وضاحت کی کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف دو ماہ تک اپیل کی جا سکتی ہے۔ پابندیوں میں یورپی یونین میں داخلے یا آمد ورفت پر پابندی اور ملزمان کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔

دوسری طرف مقتول مُعمر قذافی کا نام اب بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ معمر قذافی کو 20 اکتوبر 2011ء کو مشتعل ھجوم نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ خانہ جنگی میں ان کے بیٹے خمیس، معتصم اور سیف العرب بھی ہلاک ہو گئے تھے۔