.

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا یمنی بچّوں کو کیسے جنگ کا ایندھن بنارہی ہے؟ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سرکاری فوج کے خلاف عام شہریوں اورتارکین وطن کو تو میدان جنگ میں اتار ہی رہی ہے لیکن وہ ان کے ساتھ اسکول جانے والے کم سن بچّوں کو بھی اس جنگ کا ایندھن بنا رہی ہے۔ بچوں کی فوجی بھرتی سے متعلق آئے دن سوشل میڈیا کے ذریعے ویڈیوز یا تصاویر منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔

حوثیوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں واقع اسکولوں کو عسکری تربیتی مراکز میں تبدیل کررکھا ہے اور وہ وہاں طالب علموں کوتعلیم تو برائے نام دے رہے ہیں لیکن انھیں اسلحہ چلانا اور دوسرے جنگی فنون ضرور سیکھا رہے ہیں۔اس مقصد کے لیے اسکولوں میں حربی ڈرامے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

حال ہی سوشل میڈیا کے ذریعے دارالحکومت صنعاء میں واقع عصریہ ماڈرن اسکول کے طلبہ کا ایک ویڈیو کلپ منظرعام پر آیاہے۔اس میں بچّے جنگی منظرپیش کررہے ہیں۔ان میں ایک بچّے کو جنگ کے لیے طلب کیا جاتا ہے،وہ میدان جنگ میں لڑتے ہوئے ماراجاتا ہے اور پھر وہ شہادت کے منصب پر فائز ہوجاتاہے۔اس ڈرامے میں بچے کی ماں پھراس کی ایک رائفل ایک اور لڑکے کو دےدیتی ہے۔

وہ لڑکا دوسرے بچوں کو جنگ کی ترغیب دینے کے لیے ایک مکالمہ بولتا ہے اور حاضرین کو مخاطب ہوکر کہتا ہے:’’ہمیں اپنے وقار اور فخر کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے تاکہ ہماری مستقبل کی نسلیں عزت ووقار کے ساتھ جی سکیں۔‘‘

انسانی حقوق کی دو تنظیموں یورو، بحرمتوسط انسانی حقوق مانیٹر اور سام برائے حقوق اور آزادی کی فروری میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے 2014ء کے بعد یمن میں 10300 بچّوں کو لڑائی میں جھونکنے کے لیے جبری بھرتی کیا ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی اسکولوں اور دوسرے تعلیمی مراکز سے کم سن بچّوں کوبھرتی کرکے اپنی صفوں میں شامل کررہے ہیں۔

مشرقِ اوسط میں تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی ایک اور تنظیم نے بھی حال ہی میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حوثی باغی یمن کےتعلیمی نظام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔وہ بچّوں میں منافرت پھیلانے کے لیے تدریسی کتب کو استعمال کررہے ہیں اوراس مقصد کے لیے انھوں نے اسکول کی کتب میں منافرت آمیز اور گم راہ کن کم مواد شامل کیا ہے۔

اسکول ایجوکیشن میں امن اور ثقافتی رواداری کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے (امپیکٹ اسکول ایجوکیشن) نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے زیرانتظام سمرکیمپوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے تیارکردہ تدریسی مواد کا جائزہ لیا ہے۔اس کے علاوہ ’’جہاد‘‘ کے نام سے ایک ماہانہ تعلیمی میگزین کے مندرجات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اس میگزین میں مہلوک بچّوں کی تصاویر شامل کی گئی ہیں تاکہ اس طرح دوسرے بچوں کے ذہنوں میں حوثیوں کے مخالفین کے بارے میں نفرت راسخ کی جاسکے۔

حوثیوں کے زیرانتظام اسکولوں کے تعلیمی مواد میں امریکا کو ایک عالمی برائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کو ایران کی اصطلاح میں ’’بزرگ شیطان‘‘ قرار دیا گیا ہے جو داعش سمیت دنیا میں ہونے والی تمام برائیوں کا ذمے داراور اصل منبع ہے۔اس کے علاوہ بچوں کو ’’مرگ بر امریکا‘‘ کا نعرہ بھی سکھایا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی تیارکردہ تدریسی کتب میں یہودمخالف مواد بھی بہ کثرت موجود ہے۔اسباق میں ہولوکاسٹ ،زرد ستارہ داؤد اورکانٹے دار تار کی تصاویر شامل کی گئی ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے صہیونی امریکیوں کی بالادستی کی مخالفت کی جاسکتی ہے۔نیزاسرائیل کو ایک ’’سرطانی پھوڑا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

ایک کتاب میں شامل کارٹون میں ایک نوجوان لڑکے اور اس کے دوستوں کو دشمن کے جہاز پر حملہ آور ہوتے دکھایا گیا ہے لیکن اس جہاز پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچم لہرا رہے تھے۔

حوثی ملیشیا افریقی تارکینِ وطن کو سرکاری فوج اورعرب اتحاد کے خلاف لڑائی کے لیے فوجی تربیت دے رہی ہے اور انھیں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی سکھا رہی ہے۔الحدث ٹی وی چینل نے کچھ عرصہ قبل ایک افریقی تارک وطن کی ویڈیو نشر کی تھی۔اس میں اس کو ’’مرگ بر امریکا‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔