.

افغانستان میں فوجی مشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کاآغازہوچکا:امریکی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں موجود غیرملکی فورسز کے ترتیب وارانخلا اور ان کے زیراستعمال فوجی اڈے افغان مسلح افواج کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات کاآغاز ہوچکا ہے۔

یہ بات افغانستان میں غیرملکی افواج کے کمانڈر امریکی آرمی جنرل اسکاٹ ملر نے اتوار کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’وہ صدر جو بائیڈن کے امریکا کی سب سے طویل جنگ کے خاتمے کے فیصلے کے تحت احکام پر عمل درآمد کررہے ہیں۔‘‘

اسکاٹ ملر افغانستان میں امریکی فورسز اورمعاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے امدادی مشن کی 2018ء سے کمان کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’غیرملکی افواج انخلا کے عمل کے دوران میں ایسے فوجی وسائل اپنے پاس رکھیں گی، جن سے وہ اپنا دفاع کرسکیں اور ساتھ وہ افغان سکیورٹی فورسز کی بھی معاونت جاری رکھیں گی۔‘‘

انھوں نے بتایا:’’مجھے طالبان کے سیاسی کمیشن کے ارکان سے بات چیت کا موقع ملا ہے اور میں نے انھیں باور کرایا ہے کہ اگر تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے اور کسی فوجی فیصلے پرمجبورکیاجاتا ہے تو یہ افغانستان اور افغان عوام کے لیے ایک المیہ ہوگا۔‘‘

جنرل اسکاٹ ملر نے بتایا کہ جب امریکی فورسز کا انخلا مکمل ہوجائے گا تو ہم (اپنے زیر استعمال) فوجی اڈوں کوافغان وزارت دفاع اور دوسری افغان فورسز کے حوالے کردیں گے۔انھوں نے مزید بتایا کہ طالبان نے انتہاپسند گروپ القاعدہ سے اپنا ناتاتوڑنے کا وعدہ کیا ہے۔

افغان طالبان نے گذشتہ سال امریکا سے دوحہ میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت القاعدہ کے ساتھ ہرقسم کا تعلق توڑنے اور ملک سے تشدد آمیز کارروائیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول انھوں نے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فورسز پر توحملے کم کردیے ہیں لیکن افغان سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے جنوری میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے قریباً 500 جنگجو موجود ہیں۔طالبان نے ان کے ساتھ قریبی روابط استوار کررکھے ہیں جبکہ طالبان افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے انکاری ہیں اور وہ ایسی اطلاعات کی تردید کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ افغانستان میں موجود باقی ماندہ فوج کا انخلا 11ستمبر تک مؤخرکرنے کا اعلان کیا تھا۔افغان طالبان اورسابق ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان فروری2020ء میں طے شدہ سمجھوتے کے مطابق رواں سال یکم مئی تک جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونا تھا۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا تھا کہ ’’اگر طالبان امریکی فورسز کے خلاف حملے کرتے ہیں تو ہم سخت جوابی وارکریں گے اور انھیں ان حملوں کا ذمے دار گردانیں گے۔نیز اگر دہشت گردی کے خطرات کا دوبارہ ظہور ہوتا ہے تو امریکا خطے میں اپنے ’’نمایاں اثاثے‘‘ موجود رکھے گا۔‘‘

تاہم افغان حکومت بائیڈن انتظامیہ اور پینٹاگان پر یہ زور دے چکی ہے کہ وہ ملک سے فوجیوں کو واپس نہیں بلائے کیونکہ اس صورت میں ایک سکیورٹی انخلا پیدا ہوگا اور طالبان دوبارہ ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

امریکا نے 11 ستمبر 2001ء کو اغواشدہ طیاروں سے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اورواشنگٹن کے نواح میں واقع پینٹاگان کی عمارت پر حملوں کے ردعمل میں افغانستان میں جنگ شروع کی تھی۔سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کو جواز بنا کراسی سال اکتوبر میں پہلے فضائی حملوں کا حکم دیا تھا اور پھر میں زمینی فوج اتار دی تھی۔اس جنگ کو اس سال اکتوبر میں بیس سال پورے ہوجائیں گے۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’’نائن الیون کے بعد امریکا افغانستان میں 825 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔‘‘بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اب افغانستان میں جھونکے جانے والے مالی وسائل کو دوسری جگہوں پر صرف کرنا چاہتا ہے۔