.

ترکوں کے ہاتھوں آرمینی باشندوں کی 'نسل کشی' تسلیم کرنے پر ترکی کا امریکا سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے ہفتے کی شام کو اعلان کیا ہے کہ اس نے انقرہ میں امریکی سفیر کو امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے بعد دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سنہ1915ء کو عثمانی سلطنت کے فوجیوں نے آرمینیا میں نہتے لوگوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

1915 کی ایک تصویر میں ایک عثمانی فوجی دکھایا گیا ہے جو ایک آرمینیائی گاؤں میں لاشوں پر کھڑا ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
جوبائیڈن نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ 1915 میں ہونے والی ہلاکتیں نسل کشی کے مترادف ہیں۔ یہ ایک تاریخی اعلان ہے جس نے ترکی کو مشتعل کردیا اور نیٹو کے رکن ممالک مابین تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نائب وزیر خارجہ سادات ونال نے امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو آگاہ کیا کہ بائیڈن کے بیان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور انقرہ نے اسے "ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بیان کی وجہ سے "تعلقات میں ایک ایسا گھائو آیا ہے جس کا علاج کرنا مشکل ہو گا۔

امریکی سفیر ڈیوڈ سیتر فیلڈ
امریکی سفیر ڈیوڈ سیتر فیلڈ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جوبائیڈن کے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے استنبول میں آرمینیائی عیسائی پادری کو لکھے گئے مکتوب میں "تیسرے فریق" کو اپنے ملک کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ میلوت جاوش اوگلو نے کہا ہے کہ ترکی اپنی تاریخ کے بارے میں کسی سے سبق حاصل نہیں کرتا ہے۔

امریکا کے صدر جوبائیڈن نے 1915ء میں سلطنت عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کرلیا ہے۔وہ یہ فیصلہ کرنے والے امریکا کے پہلے صدرہیں جبکہ ترکی نے ان کے بیان کو مسترد کردیا ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روزآرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کی برسی کے موقع پرجاری کردہ بیان میں نسل کشی کی اصطلاح استعمال کی ہے۔انھوں نے ایک روز قبل ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اورانھیں اپنے اس فیصلے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔

صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ان تمام لوگوں کو یادکر رہے ہیں جوعثمانیہ دور میں آرمینیاؤں کی نسل کشی کے وقت مارے گئے تھے۔ہم خود سے اس عزم کااعادہ کرتے ہیں کہ اس طرح کا قتل عام دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘‘

امریکی صدر کے اس بیان کو آرمینیا اور بالخصوص بیرون ملک رہنے والے آرمینیائی باشندوں کی ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔وہ ایک عرصے سے اپنے آباء واجداد کے پہلی عالمی جنگ کے دوران میں عثمانی فوج کے ہاتھوں قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آرمینیائی باشندے ہر سال 24 اپریل کو دنیا بھر میں ایک صدی قبل اپنی نسل کے قریباً 15 لاکھ افراد کے قتل عام کی یاد میں دن مناتے اور مظاہرے کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یوروگوائے نے 1965ء میں سب سے پہلے اس قتل عام کے لیے نسل کشی کی اصطلاح استعمال کی تھی۔اس کے بعد سے فرانس ، جرمنی ، کینیڈا اور روس سمیت متعدد ممالک آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن امریکا کے سابق صدور نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔